۶۸۲۰ : حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا وَہْبٌ ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ عُمَرَ ، مِثْلَہٗ۔: فَہٰذِہٖ صِفَۃُ التَّوْبَۃِ الَّتِی أَمَرَہُمْ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ بِہَا فِیْ کِتَابِہٖ .فَأَمَّا قَوْلُہُمْ نَتُوْبُ اِلَی اللّٰہِ لَیْسَ مِنْ ہٰذَا فِیْ شَیْئٍ .قِیْلَ لَہُمْ : اِنَّ ذٰلِکَ وَاِنْ کَانَ کَمَا ذَکَرْتُمْ ، فَاِنَّا لَمْ نُبِحْ لَہُمْ أَنْ یَقُوْلُوْا نَتُوْبُ اِلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ عَلٰی أَنَّہُمْ مُعْتَقِدُوْنَ لِلرُّجُوْعِ اِلٰی مَا تَابُوْا مِنْہُ .وَلٰـکِنَّا أَبَحْنَا لَہُمْ ذٰلِکَ ، عَلٰی أَنَّہُمْ یُرِیْدُوْنَ بِہٖ تَرْکَ مَا وَقَعُوْا فِیْہِ مِنَ الذَّنْبِ ، وَلَا یُرِیْدُوْنَ الْعَوْدَۃَ فِیْ شَیْئٍ مِنْہُ .فَاِذَا قَالُوْا ذٰلِکَ ، وَاعْتَقَدُوْا ہٰذَا بِقُلُوْبِہِمْ ، کَانُوْا فِیْ ذٰلِکَ مَأْجُوْرِیْنَ مُثَابِیْنَ .فَمَنْ عَادَ مِنْہُمْ بَعْدَ ذٰلِکَ فِیْ شَیْئٍ مِنْ تِلْکَ الذُّنُوْبِ ، کَانَ ذٰلِکَ ذَنْبًا أَصَابَہٗ، وَلَمْ یُحْبِطْ ذٰلِکَ أَجْرَہُ الْمَکْتُوْبَ لَہٗ، بِقَوْلِہٖ الَّذِیْ تَقَدَّمَ مِنْہٗ، وَاعْتِقَادِہِ مَعَہٗ، مَا اعْتَقَدَ .فَأَمَّا مَنْ قَالَ أَتُوْبُ اِلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ وَہُوَ مُعْتَقِدٌ أَنَّہٗ یَعُوْدُ اِلٰی مَا تَابَ مِنْہٗ، فَہُوَ بِذٰلِکَ الْقَوْلِ ، فَاسِقٌ مُعَاقَبٌ عَلَیْہٖ، لِأَنَّہٗ کَذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ فِیْمَا قَالَ : وَأَمَّا اِذَا قَالَ ، وَہُوَ مُعْتَقِدٌ لِتَرْکِ الذَّنْبِ ، الَّذِیْ کَانَ وَقَعَ فِیْہٖ، وَعَازِمٌ أَنْ لَا یَعُوْدَ اِلَیْہِ أَبَدًا ، فَہُوَ صَادِقٌ فِیْ قَوْلِہٖ ، مُثَابٌ عَلٰی صِدْقِہٖ، اِنْ شَائَ اللّٰہُ تَعَالٰی .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ قَالَ النَّدَمُ تَوْبَۃٌ۔
٦٨٢٠: نعمان بن بشیر نے حضرت عمر (رض) سے اسی طرح روایت کی ہے۔ یہ توبہ کی وہ کیفیت ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حکم فرمایا ہے باقی ان کا قول ” نتوب الی اللہ “ یہ اس میں دلیل کا کام نہیں دے سکتا۔ اگرچہ جیسا تم نے ذکر کیا اسی طرح ہے ہم نے ان کے لیے یہ کہنا جائز نہیں قرار دیا ” نتوبوا الی اللہ عزوجل “ جبکہ وہ ان گناہوں کی طرف لوٹنے کا ارادہ رکھتے ہوں جن سے انھوں نے توبہ کی ہے لیکن ہم نے ان کے لیے یہ اس طور پر جائز رکھا ہے کہ جب ان کا ارادہ یہ ہو کہ جس گناہ میں وہ مبتلا ہوئے ہیں اس کے چھوڑنے کا وہ ارادہ رکھتے ہیں اور اس کی طرف لوٹنے کا بالکل ارادہ نہیں رکھتے جب وہ کلمات کہیں گے اور دلوں میں یہ اعتماد رکھیں گے تو وہ اس سلسلے میں ماجور اور ثواب پانے والے ہوں گے پھر ان میں سے جو آدمی ان گناہوں کی طرف لوٹ گیا تو وہ اس کا گناہ ہے جو اس نے کیا اس سے اس کا سابقہ لکھا ہوا اجر مٹایا نہ جائے گا وہ اجر جو کہ اس کے سابقہ قول و اعتقاد سے لکھا گیا۔ رہا وہ شخص جس میں اتوب الی اللہ کا کلمہ اس اعتقاد سے کہا کہ وہ دوبارہ گناہ کی طرف لوٹ جائے گا تو وہ اس کہنے میں گناہ گار ہے قابل سزا ہے کیونکہ وہ اللہ کے ذمے اسی طرح ہے جیسے اس نے کہا اور جس آدمی نے گناہ چھوڑنے کا اعتقاد رکھتے ہوئے یہ کہا اور اس کا پختہ ارادہ یہ ہے کہ وہ کبھی اس کی طرف نہیں لوٹے گا تو وہ اتوب الیہ کہنے میں سچا ہے اور ان شاء اللہ اس کی سچائی پر اس کو ثواب ملے گا۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ندامت کو توبہ قرار دیا ہے (جیسا ان روایات میں ہے)