۶۸۲۸ : حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ ، قَالَ : ثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِیْ مُلَیْکَۃَ ، فَذَکَرَ نَحْوَہٗ، غَیْرَ أَنَّہٗ ، لَمْ یَذْکُرْ قَضِیَّۃَ صُہَیْبٍ .قَالُوْا : فَلَمَّا کَانَ الْمَیِّتُ یُعَذَّبُ بِبُکَائِ أَہْلِہٖ عَلَیْہٖ، کَانَ بُکَاؤُہُمْ عَلَیْہِ مَکْرُوْہًا لَہُمْ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا : لَا بَأْسَ بِالْبُکَائِ عَلَی الْمَیِّتِ اِذَا کَانَ بُکَائً لَا مَعْصِیَۃَ مَعَہٗ، مِنْ قَوْلٍ فَاحِشٍ ، وَلَا نِیَاحَۃٍ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ۔
٦٨٢٨: عمرو ابن دینار نے ابن ابی ملیکہ سے اسی طرح روایت ذکر کی البتہ صہیب (رض) کا واقعہ ذکر نہیں کیا اس فریق کا کہنا یہ ہے کہ جب میت کو اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب ہوتا ہے تو ان کا رونا اس پر مکروہ ہے۔ کچھ اور لوگوں نے یہ بات کہی کہ میت پر رونے میں کچھ حرج نہیں جبکہ رونے میں کوئی معصیت اور نافرمانی نہ ہو جیسے فحش کلمات اور نوحہ اور انھوں نے ان روایات کو دلیل بنایا۔