۶۸۲۹ : بِمَا حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِیْ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِیِّ ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : اشْتَکٰی سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ شَکْوٰی لَہٗ، فَأَتَیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَعُوْدُہٗ، مَعَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَسَعْدِ بْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍ ، وَعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ .فَلَمَّا دَخَلَ عَلَیْہٖ، وَجَدَہُ فِیْ غَشْیَتِہِ فَقَالَ : قَدْ قَضٰی ، فَقَالُوْا : لَا ، وَاللّٰہِ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، فَبَکٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .فَلَمَّا رَأَی الْقَوْمُ بُکَائَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، بَکَوْا فَقَالَ : أَلَا تَسْمَعُوْنَ أَنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی لَا یُعَذِّبُ بِدَمْعِ الْعَیْنِ ، وَلَا بِحُزْنِ الْقَلْبِ ، وَلٰـکِنْ یُعَذِّبُ بِہٰذَا وَأَشَارَ اِلٰی لِسَانِہٖ أَوْ یُرْحَمُ۔
٦٨٢٩: سعید بن حارث انصاری نے ابن عمر (رض) سے روایت کی ہے کہ سعد بن عبادہ (رض) بیمار ہوگئے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی عیادت کے لیے عبدالرحمن بن عوف ‘ سعد بن ابی وقاص اور عبداللہ بن مسعود (رض) کے ساتھ آئے۔ جب آپ داخل ہوئے تو ان کو غشی میں پایا۔ آپ نے فرمایا۔ کیا وہ فوت ہوگئے انھوں نے کہا نہیں۔ اللہ کی قسم یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کے آنسو بہنے لگے۔ جب صحابہ کرام نے آپ کا رونا دیکھا تو وہ بھی رونے لگے اور فرمایا سنو ! بیشک اللہ تعالیٰ آنکھ کے آنسو بہانے سے عذاب نہیں دیتا اور نہ دل کے غم سے۔ لیکن اس کے سبب عذاب دیتے ہیں یا رحم فرماتے ہیں اور آپ نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا ۔
تخریج : بخاری فی الجنائز باب ٤٤‘ والتوحید باب ٢٥‘ مسلم فی الجنائز ١٢‘ ابو داؤد فی الجنائز باب ١٧‘ ابن ماجہ باب ٤٩‘ مسند احمد ٢؍٤٤١۔