hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6837

.

الطحاوي

6837
Al Tahawi
۶۸۳۴ : حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنِی ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا زَوْجِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہَا قَالَتْ : یَغْفِرُ اللّٰہُ لِأَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، یَقُوْلُ : اِنَّ الْمَیِّتَ لَیُعَذَّبُ بِبُکَائِ الْحَیِّ۔وَاللّٰہِ مَا ذَاکَ اِلَّا اِیہَامًا مِنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَغْفِرُ اللّٰہُ لَہٗ، اِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یَقُوْلُ : وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرٰی۔وَمَا ذَاکَ اِلَّا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلٰی قَبْرِ یَہُوْدِیْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْتُمْ تَبْکُوْنَ عَلَیْہٖ، وَاِنَّہٗ لَیُعَذَّبُ فِیْ قَبْرِہِ یَقُوْلُ : بِعَمَلِہٖ۔ فَأَخْبَرَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، اِنَّمَا أَخْبَرَ أَنَّ ذٰلِکَ الْکَافِرَ یُعَذَّبُ فِیْ قَبْرِہٖ بِعَمَلِہٖ ، وَأَہْلُہٗ یَبْکُوْنَ عَلَیْہٖ، وَقَدْ مَنَعَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ ، أَنْ تَزِرَ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرٰی .فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی أَنَّ مَیِّتًا لَا یُعَذَّبُ فِیْ قَبْرِہٖ بِبُکَائِ حَیْ لَمْ یَأْمُرْ بِہٖ فِیْ حَیَاتِہٖ، وَمَاتَ ، لِحَدِیْثِ جَابِرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ الْبُکَائُ الْمَکْرُوْھُ مَا ہُوَ ، وَأَنَّہٗ ہُوَ الَّذِیْ مَعَہُ اللَّطْمُ وَالشَّقُّ .فَقَدْ ثَبَتَ بِمَا ذَکَرْنَا اِبَاحَۃُ الْبُکَائِ عَلَی الْمَیِّتِ ، اِذَا لَمْ یَکُنْ مَعَہٗ سَبَبٌ مَکْرُوْہٌ ، مِنْ شَقِّ ثَوْبٍ ، وَلَطْمِ وَجْہٍ ، وَنِیَاحَۃٍ ، وَمَا أَشْبَہَ ذٰلِکَ .
٦٨٣٤: عروہ نے اپنے والد سے انھوں نے حضرت عائشہ (رض) امّ المؤمنین سے بیان کیا کہ وہ فرماتی تھیں اللہ تعالیٰ ابو عبدالرحمن بن عمر (رض) کو معاف کرتے کہ وہ کہتے تھے کہ میت کو زندہ لوگوں کے رونے سے عذاب ہوتا ہے اللہ کی قسم ! یہ عبداللہ بن عمر (رض) کو وہم ہوا اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ” ولا تزر وازرۃ وزر اخری “ (فاطر ١٨) کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور اس کا واقعہ یہ ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گزر ایک یہودی کی قبر کے پاس سے ہوا تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (اے لوگو ! ) تم رو رہے ہو اور اس کو اس کی قبر میں عذاب ہو رہا ہے۔ فرمایا۔ اس کے عمل کے باعث۔ اس روایت میں حضرت عائشہ (رض) نے بتلا دیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اس کافر کو تو اس کے عمل کی وجہ سے قبر میں عذاب ہو رہا ہے اور اس کے گھر والے اس پر نالہ و شؤن میں مصروف ہیں اور اللہ تعالیٰ نے بھی اس بات کو غلط قرار دیا کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ زندوں کے رونے سے قبر میں اس میت کو عذاب نہیں ہوتا جس نے اپنے اوپر زندگی میں رونے کا حکم نہ دیا ہو۔ جیسا کہ جابر بن عبدالرحمن بن عوف کی روایت میں ہے۔ مکروہ رونا وہ ہے جس میں منہ پر تھپڑ مارنا اور گریبان کا پھاڑنا پایا جائے اور ہم نے جو کچھ ذکر کیا اس سے میت پر رونے کا جواز ثابت ہوا بشرطیکہ اس کے ساتھ کوئی مکروہ سبب نہ ہو مثلاً کپڑے پھاڑنا ‘ چہرے پر تھپڑ مارنا ‘ نوحہ کرنا اور جو اس کے مشابہہ ہوں۔