۶۸۳۵ : وَقَدْ حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا یَحْیٰی بْنُ عَبْدُ الْحَمِیدِ الْحِمَّانِیُّ قَالَ : ثَنَا شَرِیْکٌ ، عَنْ أَبِیْ اِسْحَاقَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : دَخَلَ عَلَیَّ قَرَظَۃُ بْنُ کَعْبٍ ، وَعَلٰی أَبِیْ مَسْعُوْدٍ الْأَنْصَارِیِّ ، وَثَابِتِ بْنِ قَیْسٍ وَعِنْدَہُمْ جَوَارٍ یُغَنِّیْنَ .فَقُلْت: أَتَفْعَلُوْنَ ہٰذَا ، وَأَنْتُمْ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ قَالُوْا : اِنْ کُنْتُ تَسْمَعُ ، وَاِلَّا فَامْضِ ، فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِی اللّٰہْوِ عِنْدَ الْعُرْسِ ، وَفِی الْبُکَائِ عَلَی الْمَیِّتِ۔فَاِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَقَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ الْمَیِّتَ یُعَذَّبُ فِیْ قَبْرِہٖ، بِنِیَاحَۃِ أَہْلِہٖ عَلَیْہِ۔
٦٨٣٥: عامر بن سعد کہتے ہیں کہ میں قرظہ بن کعب اور ابو مسعود انصاری (رض) ثابت بن قیس کے ہاں داخل ہوا اس وقت ان کے پاس لونڈیاں تھیں جو گیت و اشعار گا رہی تھیں میں نے کہا تم اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہو کر یہ کرتے ہو۔ انھوں نے کہا۔ اگر تو نے سننا ہے تو سنو ورنہ اپنا راستہ لو۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شادی کے موقعہ پر اتنے لہو کی اجازت دی ہے اور اسی طرح میت پر رونے کی اجازت دی ہے۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے کہ میت کو اس کے گھر والوں کے نوحہ سے قبر میں عذاب ہوتا ہے۔ (جیسا کہ یہ روایت ہے)