hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6839

.

الطحاوي

6839
Al Tahawi
۶۸۳۶ : وَذَکَرَ مَا حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ہَارُوْنَ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ عُبَیْدٍ ، أَبُو الْہُذَیْلِ الطَّائِیُّ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ رَبِیْعَۃَ قَالَ : نِیْحَ عَلٰی قَرَظَۃَ بْنِ کَعْبٍ ، فَخَطَبَ الْمُغِیْرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ فَقَالَ : مَا بَالُ النِّیَاحَۃِ فِیْ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ ؟ اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ اِنَّ کَذِبًا عَلَیَّ لَیْسَ کَکَذِبٍ عَلٰی أَحَدٍ ، مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ وَمَنْ یُنَحْ عَلَیْہِ عُذِّبَ بِمَا نِیْحَ عَلَیْہٖ، أَوْ لِمَا نِیْحَ عَلَیْہِ۔قِیْلَ لَہٗ : ہٰذَا، عِنْدَنَا ، وَاللّٰہُ أَعْلَمُ ۔ عَلَی النِّیَاحَۃِ الَّتِیْ کَانُوْا یُوْصُوْنَ بِہَا أَہْلِیْہِمْ ، فَتَکُوْنُ مَفْعُوْلَۃً بَعْدَہُمْ بِوَصِیَّتِہِمْ بِہَا فِیْ حَیَاتِہِمْ ، فَیُعَذَّبُوْنَ عَلٰی ذٰلِکَ ، وَاللّٰہُ أَعْلَمُ .
٦٨٣٦: علی بن ربیعہ کہتے ہیں کہ قرظہ بن کعب پر نوحہ کیا گیا۔ تو حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) نے خطبہ دیا اور فرمایا۔ اس امت میں نوحہ کا کیا جواز ہے ؟ بیشک میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا۔ مجھ پر جھوٹ بولنا وہ تمہارے ایک دوسرے پر جھوٹ بولنے کی طرح نہیں۔ جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانا آگ بنا لے۔ اور جس پر نوحہ کیا جائے تو اس کو نوحہ کی وجہ سے عذاب ہوگا یا فرمایا اس وجہ سے عذاب ہوگا کہ اس پر نوحہ کیا گیا ہے۔ ہمارے ہاں اس کی تاویل یہ ہے کہ اس سے وہ نوحہ مراد ہے جس کی زمانہ جاہلیت میں وصیت کی جاتی تھی اور وہ نوحہ زندگی میں مرنے والے کے حکم کی وجہ سے ان کی وصیت کے مطابق کیا جاتا تھا۔ پس اس وجہ سے ان کو عذاب دیا جاتا تھا۔ واللہ اعلم۔
تخریج : بخاری فی الجنائز باب ٣٤‘ مسلم فی الجنائز ٢٨‘ ترمذی فی الجنائز باب ٢٣‘ مسند احمد ٢؍٦١‘ ٤؍٢٥٢۔