hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 684

.

الطحاوي

684
Al Tahawi
۶۸۴ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ، قَالَ : ثَنَا أَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیْدٍ، ح .وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ، قَالَ : ثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ عَنْ یَحْیٰی، قَالَ : سَأَلْتُ عَمْرَۃَ عَنْ غُسْلِ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ، فَذَکَرَتْ أَنَّہَا سَمِعَتْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا تَقُوْلُ کَانَ النَّاسُ عُمَّالَ أَنْفُسِہِمْ، فَیَرُوْحُوْنَ بِہَیْئَاتِہِمْ فَقَالَ لَوِ اغْتَسَلْتُمْ " .فَھٰذِہٖ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا، تُخْبِرُ بِأَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، إِنَّمَا کَانَ نَدَبَہُمْ إِلَی الْغُسْلِ، لِلْعِلَّۃِ الَّتِیْ أَخْبَرَ بِہَا ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا، وَأَنَّہٗ لَمْ یَجْعَلْ ذٰلِکَ عَلَیْہِمْ حَتْمًا، وَہِیَ أَحَدُ مَنْ رَوَیْنَا عَنْہَا فِی الْفَصْلِ الْأَوَّلِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَأْمُرُ بِالْغُسْلِ فِیْ ذٰلِکَ الْیَوْمِ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مَا یَدُلُّ عَلٰی أَنَّ ذٰلِکَ لَمْ یَقَعْ عِنْدَہٗ، مَوْقِعَ الْفَرْضِ .
٦٨٤: عبیداللہ نے یحییٰ کہتے ہیں میں نے عمرہ سے جمعہ کے دن غسل کے سلسلہ میں سوال کیا اس نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ (رض) کو فرماتے سنا کہ لوگ خود اپنا کام کاج کرتے تھے وہ اپنی اسی حالت میں مسجد میں آجاتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو غسل کا حکم فرمایا۔
تخریج : بخاری فی الجمعہ باب ١٦‘ مسلم فی الجمعہ نمبر ٦‘ ابو داؤد فی الطھارۃ باب ١٢٨‘ نمبر ٣٥٢‘ مسند احمد ٦؍٦٢‘ مصنف عبدالرزاق نمبر ٥٣١٥‘ مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الصلاۃ نمبر ٢؍٩٥۔
ارشاد طحاوی (رح) :
حضرت عائشہ (رض) نے اس روایت میں یہ خبر دی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو غسل کی طرف اسی علت کی وجہ سے متوجہ کیا جس کا تذکرہ سابقہ روایت میں ابن عباس (رض) کرچکے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو ان پر واجب نہیں فرمایا۔
سابقہ روایت کے جواب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ فریق اوّل نے ان کی روایت کو مستدل بنایا تھا اور امر سے وجوب مراد لے لیا تھا مگر انھوں نے خود اس کا معنی استحباب بتلایا۔
حاصل روایات :
ان دونوں روایتوں نے حکم کی نوعیت کو ظاہر کردیا کہ لزوم کا سبب یہ تھا جب سبب رفع ہوا تو لزوم نہ رہا اس سے فریق اوّل کی روایات کا جواب بھی ہوگیا۔
اکابر صحابہ (رض) کے ہاں یہ حکم وجوب کے لیے نہ تھا۔