۶۸۵ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ہَارُوْنَ، قَالَ : أَنَا ہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیْرِیْنَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ بَیْنَمَا ہُوَ یَخْطُبُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، اِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَقَالَ : لَہٗ عُمَرُ " الْآنَ حِیْنَ تَوَضَّأْتَ " .فَقَالَ : مَا زِدْتُ حِیْنَ سَمِعْتُ الْأَذَانَ، عَلٰی أَنْ تَوَضَّأْتُ، ثُمَّ جِئْتُ .فَلَمَّا دَخَلَ أَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ ذَکَرْتُہٗ، فَقُلْتُ یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ : أَنَا سَمِعْتُ مَا قَالَ قَالَ وَمَا قَالَ؟ قُلْتُ : قَالَ مَا زِدْتُ عَلٰی أَنْ تَوَضَّأْتُ حِیْنَ سَمِعْتُ النِّدَائَ ثُمَّ أَقْبَلْتُ .فَقَالَ : أَمَا إِنَّہٗ قَدْ عَلِمَ أَنَّا أُمِرْنَا بِغَیْرِ ذٰلِکَ، قُلْتُ مَا ہُوَ؟ قَالَ : الْغُسْلُ .قُلْتُ : أَنْتُمْ - أَیُّہَا الْمُہَاجِرُوْنَ - الْأَوَّلُوْنَ أَمِ النَّاسُ جَمِیْعًا، قَالَ : لَا أَدْرِیْ.
٦٨٥: محمد بن سیرین نے ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے جبکہ ایک آدمی آیا وہ مسجد میں داخل ہوا تو ان سے عمر (رض) نے فرمایا اس وقت تم نے وضو کیا ہے۔
انھوں نے کہا میں نے جب اذان سنی تو صرف وضو کر کے میں آگیا جب امیرالمؤمنین داخل ہوئے تو میں نے ان سے تذکرہ کیا میں نے کہا اے امیرالمؤمنین میں نے اس کی بات سنی انھوں نے کہا اس نے کیا کہا ہے ؟ میں نے کہا اس نے کہا ہے کہ میں نے جوں ہی اذان سنی تو وضو کر کے مسجد آگیا ہوں تو امیرالمؤمنین کہنے لگے ان کو معلوم ہے کہ ہمیں اس کے علاوہ کا حکم ہے میں نے کہا وہ علاوہ کیا ہے ؟ انھوں نے فرمایا وہ غسل ہے میں نے پوچھا کیا تم مہاجرین اولین کو حکم ہے یا سب لوگوں کو انھوں نے کہا مجھے معلوم نہیں۔
تخریج : بخاری فی الجمعہ باب ٢‘ مسلم فی الجمعہ نمبر ٤‘ ترمذی فی الصلاۃ باب ٣‘ نمبر ٤٩٤‘ مصنف عبدالرزاق نمبر ٢٩٢٥‘ مصنف ابن ابی شیبہ ٢؍٩٤۔