۶۸۵۰ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا أَبُو الْوَلِیْدِ قَالَ : ثَنَا شَرِیْکٌ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَیْحٍ ، عَنْ .أَبِیْھَا.قَالَ : قُلْت لِعَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا أَکَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتَمَثَّلُ بِشَیْئٍ مِنِ الشِّعْرِ ؟ فَقَالَتْ : نَعَمْ ، مِنْ شِعْرِ ابْنِ رَوَاحَۃَ ، وَرُبَّمَا قَالَ ہٰذَا الْبَیْتَ .وَیَأْتِیْکَ بِالْأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تَزَوَّدْ ۔
٦٨٥٠: مقدام بن شریح نے اپنے والد سے نقل کیا کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے پوچھا کیا جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی شعر کو تمثیل کے لیے پڑھتے تھے۔ تو انھوں نے کہا ہاں۔ ابن رواحہ (رض) کے اشعار اور بعض اوقات یہ بھی بطور تمثیل کہا۔
” ویاتیک بالاخبار من لم تزود “ تیرے پاس وہ لوگ خبریں لائیں گے جن کو تو نے زاد راہ بھی نہیں دیا۔
تخریج : ترمذی فی الادب باب ٧٠‘ مسند احمد ٦؍٢٢٢۔