۶۸۷۹ : حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا وَرْقَائُ ، عَنْ مَنْصُوْرٍ ، عَنْ ہِلَالِ بْنِ یَسَافَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَرْفَجَۃَ قَالَ : کُنَّا مَعَ سَالِمِ بْنِ عُبَیْدٍ ، فَعَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ .فَقَالَ السَّلَامُ عَلَیْکُمْ فَقَالَ سَالِمٌ وَعَلَیْکَ وَعَلٰی أُمِّکَ، مَا شَأْنُ السَّلَامِ وَشَأْنُ مَا ہٰہُنَا .ثُمَّ سَارَ سَاعَۃً ثُمَّ قَالَ لِلرَّجُلِ : أَعْظَمُ عَلَیْکَ مَا قُلْتُ لَکَ؟ قَالَ : وَدِدْتُ لَمْ تَذْکُرْ أُمِّیْ بِخَیْرٍ وَلَا غَیْرِہٖ۔ قَالَ : بَیْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، اِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَیْکُمْ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَیْکَ وَعَلٰی أُمِّکَ، اِذَا عَطَسَ أَحَدُکُمْ ، فَلْیَقُلْ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ أَوْ عَلٰی کُلِّ حَال وَلْیَرُدُّوْا عَلَیْکَ یَرْحَمُک اللّٰہُ وَلْتَرُدَّ عَلَیْہِمْ یَغْفِرُ اللّٰہُ لَکُمْ۔
٦٨٧٩: خالد بن عرفجہ کہتے ہیں کہ ہم سالم بن عبید کے ساتھ تھے۔ تو قوم میں سے ایک آدمی کو چھینک آئی۔ تو اس نے السلام علیکم کہا۔ سالم نے کہا تم پر اور تمہاری ماں پر سلام۔ یہاں سلام کا کیا مطلب ہے ؟ پھر تھوڑی دیر چلے اس کے بعد اس شخص سے سالم کہنے لگے میری بات بری لگی ہوگی۔ اس نے کہا میں چاہتا تھا کہ تو میری ماں کا خیر و شر میں سے کسی چیز کے ساتھ تذکرہ نہ کر۔ تو سالم کہنے لگے ہم جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے کہ جماعت میں سے ایک شخص کو چھینک آئی تو اس نے کہا السلام علیکم تو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم پر اور تمہاری ماں پر سلام ہو۔ جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو اسے یہی کہنا چاہیے۔ ” الحمد للہ رب العالمین یا علی کل حال اور سننے والوں کو یرحمک اللہ سے جواب دینا چاہیے اور تمہیں ان کو یغفر اللہ لکم سے جواب دینا چاہیے۔
تخریج : بخاری فی الادب باب ١٢٦‘ ترمذی فی الادب باب ٣‘ ابن ماجہ فی الادب باب ٢٠‘ مسند احمد ١, ١٢٠‘ ١٢٢‘ ٢؍٣٥٣‘ ٥؍٤١٩‘ ٦؍٨٠۔
خلاصہ الزام :
چھینکنے والے کو السلام علیکم کہنا چاہیے جیسا روایت میں مذکور ہے ائمہ احناف نے اسی طرح کہا ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف : چھینکنے والے کو جب یرحمک اللہ کہا جائے اس کے جواب میں پھر یھد یکم اللہ ویصلح بالکم کہے۔