۶۸۸۳ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ أَبُوْ مَعْشَرٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ یَحْیٰی، عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ، عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا ، زَوْجِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَنَّہَا قَالَتْ : عَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : مَاذَا أَقُوْلُ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ ؟ قَالَ قُلْ : الْحَمْدُ لِلّٰہِ قَالَ الْقَوْمُ مَاذَا نَقُوْلُ لَہٗ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ : قُوْلُوْا یَرْحَمُک اللّٰہُ قَالَ : مَاذَا أَقُوْلُ لَہُمْ ؟ قَالَ : قُلْ یَہْدِیْکُمُ اللّٰہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ۔فَقَالَ أَہْلُ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی : اِنَّمَا کَانَ قَوْلُ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَہْدِیْکُمُ اللّٰہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ لِأَنَّ الَّذِیْنَ کَانُوْا بِحَضْرَتِہٖ، یَہُوْدٌ ، وَکَانَ تَعْلِیْمُہٗ لِلْعَاطِسِ فِیْ حَدِیْثِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا مِنْ قَوْلِہٖ یَہْدِیْکُمُ اللّٰہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ اِنَّمَا ہُوَ لِأَنَّ مَنْ کَانَ بِحَضْرَتِہِ حِیْنَئِذٍ ، کَانُوْا یَہُوْدًا .احْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ۔
٦٨٨٣: عمرہ بنت عبدالرحمن حضرت امّ المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت کرتی ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاں ایک آدمی کو چھینک آئی تو اس نے عرض کیا اے نبی اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں کیا الفاظ کہوں آپ نے فرمایا تم الحمداللہ کہو۔ دوسرے حضرات نے دریافت کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم کیا کہیں آپ نے فرمایا تم یرحمک اللہ کہو۔ اس چھینکنے والے نے دریافت کیا میں ان کو جواب میں کیا کہوں۔ آپ نے فرمایا تم کہو۔ ” یہدیکم اللہ ویصلح بالکم “ فریق اوّل کا کہنا ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ الفاظ ” یہدیکم اللہ ویصلح بالکم “ اس لیے فرمائے کہ آپ کی مجلس میں یہودی تھے اور حضرت عائشہ (رض) کی روایت میں ان الفاظ کی جو تعلیم مذکور ہے۔ تو اس وقت بھی وہاں یہود موجود تھے۔ انھوں نے اس سلسلہ میں حضرت ابو بردہ کی روایت ذکر کی ہے۔
تخریج : مسند احمد ٢؍٣٥٣‘ ٤؍٤٠٠‘ ٤١١‘ ٥‘ ٤١٩؍٤٢٢‘ ٦؍٧٩۔