۶۸۹۲ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ یُوْنُسُ ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّ أَبَا سَلَمَۃَ حَدَّثَہٗ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَا عَدْوٰی وَأَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَا یُوْرِدُ مُمْرِضٌ عَلٰی مُصِحِّ ۔ قَالَ أَبُوْ سَلَمَۃَ : کَانَ أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ یُحَدِّثُ بِہِمَا کِلَیْہِمَا ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .ثُمَّ .صَمَتَ أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ بَعْدَ ذٰلِکَ عَنْ قَوْلِہٖ : لَا عَدْوٰی وَأَقَامَ عَلٰی أَنَّ لَا یُوْرِدُ مُمْرِضٌ عَلٰی مُصِحِّ ثُمَّ حَدَثَ مِثْلُ حَدِیْثِ ابْنِ أَبِیْ دَاوٗدَ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی ھٰذَا ، فَکَرِہُوْا اِیْرَادَ الْمُمْرِضُ عَلَی الْمُصِحِّ ، وَقَالُوْا : اِنَّمَا کُرِہَ ذٰلِکَ ، مَخَافَۃَ الْاِعْدَائِ ، وَأُمِرُوْا بِاجْتِنَابِ ذِی الدَّائِ وَالْفِرَارِ مِنْہُ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا بِمَا رُوِیَ عَنْ عُمَرَ فِی الطَّاعُوْنِ ، فِیْ رُجُوْعِہٖ بِالنَّاسِ ، فَارًّا مِنْہُ .
٦٨٩٢: ابو سلمہ نے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا لا عدویٰ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بھی فرمایا کہ کوئی بیمار صحت یاب کے پاس نہ جائے ابو سلمہ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ (رض) یہ دونوں روایتیں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے پھر حضرت ابوہریرہ (رض) نے لا عدویٰ کے قول سے خاموشی اختیار کرلی البتہ ” لایورد “ والی روایت پر قائم رہے پھر انھوں نے یہ روایت ابن ابی داؤد کی طرح بیان کی ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ بعض لوگ اس طرف گئے ہیں کہ بیمار کا صحیح کے پاس جانا مکروہ ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ اس بات کو اس لیے ناپسند کیا گیا تاکہ بیماری میں تعدیہ نہ ہو اسی لیے بیمار آدمی سے پرہیز اور گریز کا حکم دیا گیا اور انھوں نے اس سلسلے میں حضرت عمر (رض) والی روایت سے استدلال کیا کہ آپ لوگوں سمیت واپس لوٹے اور اس واپسی کا مقصد طاعون سے گریز تھا (جیسا ان روایات میں ہے) ۔