۶۸۹۳ : فَذَکَرُوْا مَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ ، قَالَ : ثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ : ثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : ثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ طَلْحَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَقْبَلَ اِلَی الشَّامِ فَاسْتَقْبَلَہٗ أَبُو طَلْحَۃَ ، وَأَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ ، فَقَالَا : یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ ، اِنَّ مَعَک وُجُوْھُ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَخِیَارُہُمْ ، وَاِنَّا تَرَکْنَا مِنْ بَعْدِنَا مِثْلَ حَرِیْقِ النَّارِ ، فَارْجِعِ الْعَامَ ، یَعْنِیْ: فَرَجَعَ عُمَرُ فَلَمَّا کَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ ، جَائَ فَدَخَلَ ، یَعْنِی الطَّاعُوْنَ .
٦٨٩٣: اسحاق بن عبداللہ نے حضرت انس (رض) سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر (رض) شام کے دورے پر روانہ ہوئے تو حضرت ابو طلحہ اور ابو عبیدہ نے ان کا استقبال کیا اور دونوں نے کہا اے امیرالمومنین آپ کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے چنے ہوئے لوگ ہیں ہم نے اپنے پچھلے لوگوں کو آگ کی جلن کی طرح پھوڑے میں مبتلا پایا پس آپ اس سال لوٹ جائیں تو حضرت عمر (رض) لوٹ آئے جب اگلا سال آیا اور آپ شام میں داخل ہوئے تو پھر طاعون پھیل گیا۔