۶۹۰۷ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا أَبُو الْوَلِیْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ یَزِیْدَ بْنِ حُمَیْدٍ قَالَ : سَمِعْت شُرَحْبِیْلَ بْنَ حَسَنَۃَ یُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ : اِنَّ الطَّاعُوْنَ وَقَعَ بِالشَّامِ فَقَالَ عَمْرٌو تَفَرَّقُوْا عَنْہُ فَاِنَّہٗ رِجْزٌ .فَبَلَغَ ذٰلِکَ شُرَحْبِیْلَ بْنَ حَسَنَۃَ فَقَالَ : قَدْ صَحِبْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .فَسَمِعْتُہٗ .یَقُوْلُ اِنَّہَا رَحْمَۃُ رَبِّکُمْ ، وَدَعْوَۃُ نَبِیِّکُمْ وَمَوْتُ الصَّالِحِیْنَ قَبْلَکُمْ ، فَاجْتَمِعُوْا لَہٗ، وَلَا تَفَرَّقُوْا عَلَیْہِ فَقَالَ عَمْرٌو رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ : صَدَقَ .قَالُوْا : فَقَدْ أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ہٰذِہِ الْآثَارِ أَنْ لَا یُقْدَمَ عَلَی الطَّاعُوْنِ ، وَذٰلِکَ لِلْخَوْفِ مِنْہُ .قِیْلَ لَہُمْ : مَا فِیْ ہٰذَا دَلِیْلٌ عَلٰی مَا ذَکَرْتُمْ ، لِأَنَّہٗ لَوْ کَانَ أَمَرَہٗ بِتَرْکِ الْقُدُوْمِ لِلْخَوْفِ مِنْہٗ، لَکَانَ یُطْلِقُ لِأَہْلِ الْمَوْضِعِ .الَّذِی .وَقَعَ فِیْہِ أَیْضًا الْخُرُوْجَ مِنْہٗ، لِأَنَّ الْخَوْفَ عَلَیْہِمْ مِنْہٗ، کَالْخَوْفِ عَلٰی غَیْرِہِمْ .فَلَمَّا مَنَعَ أَہْلَ الْمَوْضِعِ الَّذِیْ وَقَعَ فِیْہِ الطَّاعُوْنُ مِنَ الْخُرُوْجِ مِنْہٗ، ثَبَتَ أَنَّ الْمَعْنَی الَّذِیْ مِنْ أَجْلِہِ مَنَعَہُمْ مِنَ الْقُدُوْمِ ، غَیْرُ الْمَعْنَی الَّذِیْ ذٰہَبْتُمْ اِلَیْہِ .فَاِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَمَا مَعْنٰی ذٰلِکَ الْمَعْنٰیْ؟ .قِیْلَ لَہٗ : ہُوَ - عِنْدَنَا ، وَاللّٰہُ أَعْلَمُ - عَلٰی أَنْ لَا یَقْدُمَ عَلَیْہِ رَجُلٌ ، فَیُصِیْبَہٗ بِتَقْدِیرِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَیْہِ أَنْ یُصِیْبَہُ فَیَقُوْلَ لَوْلَا أَنِّیْ قَدُمْت ہٰذِہِ الْأَرْضَ ، مَا أَصَابَنِیْ ہٰذَا الْوَجَعُ وَلَعَلَّہٗ لَوْ أَقَامَ فِی الْمَوْضِعِ الَّذِی خَرَجَ مِنْہُ لَأَصَابَہُ فَأُمِرَ أَنْ لَا یَقْدُمَہَا ، خَوْفًا مِنْ ہٰذَا الْقَوْلِ .وَکَذٰلِکَ أُمِرَ أَنْ لَا یَخْرُجَ مِنَ الْأَرْضِ الَّتِیْ نَزَلَ بِہَا ، لِئَلَّا یَسْلَمَ فَیَقُوْلَ لَوْ أَقَمْتُ فِی تِلْکَ الْأَرْضِ ، لَأَصَابَنِیْ مَا أَصَابَ أَہْلَہَا وَلَعَلَّہٗ لَوْ کَانَ أَقَامَ بِہَا ، مَا أَصَابَ بِہٖ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئٌ .فَأُمِرَ بِتَرْکِ الْقُدُوْمِ عَلَی الطَّاعُوْنِ ، لِلْمَعْنَی الَّذِیْ وَصَفْنَا ، وَبِتَرْکِ الْخُرُوْجِ عَنْہُ، لِلْمَعْنَی الَّذِیْ ذَکَرْنَا .وَکَذٰلِکَ مَا رَوَیْنَا عَنْہُ فِیْ أَوَّلِ ہٰذَا الْبَابِ ، مِنْ قَوْلِہٖ لَا یُوْرِدُ مُمْرِضٌ عَلٰی مُصِحٍ فَیُصِیْبُ الْمُصِحَّ ذٰلِکَ الْمَرَضُ ، فَیَقُوْلُ الَّذِی أَوْرَدَہُ عَلَیْہِ لَوْ أَنِّیْ لَمْ أُوْرِدْہُ عَلَیْہٖ، لَمْ یُصِبْہُ مِنْ ہٰذَا الْمَرَضِ شَیْئٌ وَلَعَلَّہٗ لَوْ لَمْ یُوْرِدْہُ أَیْضًا لَأَصَابَہُ کَمَا أَصَابَہُ لَمَّا أَوْرَدَہُ .فَأُمِرَ بِتَرْکِ اِیْرَادِہٖ وَہُوَ صَحِیْحٌ ، عَلٰی مَا ہُوَ مَرِیْضٌ ، لِہٰذِہِ الْعِلَّۃِ الَّتِیْ لَا یُؤْمَنُ عَلَی النَّاسِ وُقُوْعُہَا فِیْ قُلُوْبِہِمْ وَقَوْلِہِمْ ، مَا ذَکَرْنَا بِأَلْسِنَتِہِمْ . وَقَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ نَفْیِ الْاِعْدَائِ۔
٦٩٠٧: شرحبیل بن حسنہ حضرت عمرو بن عاص سے بیان کرتے ہیں کہ شام میں طاعون واقع ہوئی عمرو کہنے لگے اس سے الگ ہوجاؤ اس لیے کہ یہ عذاب ہے یہ بات حضرت شرحبیل بن حسنہ کو پہنچی تو کہنے لگے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس میں موجود تھا میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا یہ تمہارے رب کی رحمت ہے اور تمہارے پیغمبر کی دعا ہے اور تم سے پہلے صالحین کی موت ہے پس تم اس کے لیے جمع رہو اور منتشر مت ہو تو حضرت عمرو (رض) کہنے لگے انھوں نے سچ کہا۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان آثار میں حکم فرمایا کہ جہاں طاعون ہو وہاں آدمی نہ جائے اور یہ طاعون کے خطرے ہی کے پیش نظر ہے۔ جو بات تم نے کہی روایت میں اس کی کوئی دلیل نہیں کیونکہ اگر طاعون کے خطرے کی وجہ سے آمد کو چھوڑ دینے کا حکم ہوتا تو پھر یہ اس مقام کے تمام لوگوں کے لیے عام ہوتا جہاں یہ واقع ہوئی کہ وہ وہاں سے نکل جائیں کیونکہ ان کے متعلق خطرہ دوسروں کے خطرے کی طرح ہے تو جب اس مقام والے لوگوں کا طاعون کے مقام سے نکلنا ممنوع ہے تو اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ وہاں آنے کی ممانعت جس مقصد کی بنیاد پر ہے وہ اس سے مختلف ہے جو تم نے اختیار کیا۔ وہ کیا مقصد ہے واضح کریں۔ واللہ اعلم۔ ہمارے ہاں اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی آدمی وہاں نہ جائے کہ اس کو اللہ کی تقدیر سے وہ طاعون پہنچ گئی تو وہ کہیں یہ نہ کہنے لگے اگر میں اس علاقہ میں نہ آتا تو یہ تکلیف نہ پہنچتی اور شاید وہ اگر اس جگہ میں اقامت اختیار کرتا جہاں سے وہ نکلا ہے تو ضرور اس کو یہ پہنچ جاتی اس لیے حکم دے دیا کہ وہ وہاں نہ جائے تاکہ اس قسم کی بات اس کی زبان سے نہ نکلے اور اسی طرح یہ حکم دیا کہ وہ اس سرزمین سے نہ نکلے جہاں طاعون اتری ہے تاکہ وہ یہ کہنے سے بچ جائے اگر میں اس زمین میں اقامت اختیار کرتا تو مجھے وہ طاعون پہنچ جاتی جو وہاں کے لوگوں کو پہنچی ہے شاید کہ وہ وہاں اقامت اختیار کرتا تو کوئی چیز بھی اس کو نہ پہنچتی اس لیے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طاعون والے علاقے میں جانے سے منع کیا جو کہ اسی بنیاد پر ہے جو ہم نے بیان کی اور وہاں سے نکلنے سے روک دیا اس کا وہی مطلب ہے جو ہم نے بیان کیا اسی طرح وہ روایات جو شروع باب میں ” لایورد ممرض علی مصح “ کہیں صحت یاب کو وہ بیماری نہ پہنچ جائے کہ وہ یہ کہنے لگ جائے کہ کاش کہ میں اس کی ملاقات کے لیے نہ آتا اور اس کو اس بیماری میں سے کوئی چیز پہنچتی حالانکہ شاید اگر وہ وہاں نہ آتا تو ضرور اس کو وہ تکلیف پہنچ جاتی جیسا کہ اس کے آنے سے وہ تکلیف اس کو پہنچی پس جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحت یاب کو مریض کے پاس جانے سے اسی لیے منع کیا کہ تاکہ لوگوں کے دلوں میں اور زبان پر اس قسم کے کلمات نہ آئیں۔
جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تعدی مرض کی نفی سے متعلق روایات :