hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6966

.

الطحاوي

6966
Al Tahawi
۶۹۶۳ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِیْ لَیْلٰی ، حَدَّثَنِیْ أَبِیْ، عَنْ أَبِیْ لَیْلٰی ، عَنْ عَطِیَّۃَ ، عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَا عَدْوَی ، وَلَا طِیَرَۃَ ، وَاِنْ کَانَ فِیْ شَیْئٍ فَفِی الْمَرْأَۃِ ، وَالْفَرَسِ ، وَالدَّارِ۔فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ ، مَا یَدُلُّ عَلَی غَیْرِ مَا فِی الْفَصْلِ الَّذِیْ قَبْلَ ہٰذَا الْفَصْلِ . وَذٰلِکَ أَنَّ سَعْدًا ، انْتَہَرَ سَعِیْدًا حِیْنَ ذَکَرَ لَہٗ الطِّیَرَۃَ ، وَأَخْبَرَہٗ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ قَالَ : لَا طِیَرَۃَ ثُمَّ قَالَ اِنْ تَکُنِ الطِّیَرَۃُ فِیْ شَیْئٍ ، فَفِی الْمَرْأَۃِ ، وَالْفَرَسِ ، وَالدَّارِ۔فَلَمْ یُخْبِرْ أَنَّہَا فِیْہِنَّ ، وَاِنَّمَا قَالَ اِنْ تَکُنْ فِیْ شَیْئٍ فَفِیْہِنَّ أَیْ : لَوْ کَانَتْ تَکُوْنُ فِیْ شَیْئٍ ، لَکَانَتْ فِیْ ہٰؤُلَائِ ، فَاِذَا لَمْ تَکُنْ فِیْ ہٰؤُلَائِ الثَّلَاثَۃِ ، فَلَیْسَتْ فِیْ شَیْئٍ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا مَا تَکَلَّمَ بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ذٰلِکَ ، کَانَ عَلٰی غَیْرِ ہٰذَا اللَّفْظِ .
٦٩٦٣: عطیہ نے حضرت ابو سعید (رض) سے انھوں نے روایت کی کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کوئی بیماری متعدی نہیں ‘ نہ بدفالی ہے۔ اگر کسی چیز میں نحوست ہوتی تو وہ عورت ‘ گھوڑے اور گھر میں ہوتی۔ اس روایت میں ان روایات کے خلاف مضمون ہے جو کہ پہلے حصہ باب میں وارد ہوئی ہیں وہ یہ کہ حضرت سعد (رض) نے سعید کو بدفالی کے تذکرہ پر ڈانٹا اور بتلایا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تو اس کی نفی کی ہے کہ کوئی بدفالی نہیں پھر فرمایا اگر یہ ہوتی تو پھر ان تینوں چیزوں میں ہوتی گھر ‘ گھوڑا اور عورت۔ (کیونکہ یہ اکثر آدمی کے ساتھ رہتی ہیں) ۔ یہ نہیں بتلایا کہ ان میں نحوست پائی جاتی ہے بلکہ فرمایا اگر کسی چیز میں ہوتی تو ان میں ہونی چاہیے تھی۔ جب ان میں نہیں تو کسی چیز میں نہیں۔ اور حضرت عائشہ (رض) سے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان دیگر الفاظ میں وارد ہوا ہے۔
روایات حضرت عائشہ (رض) ملاحظہ ہوں۔