۶۹۶۸ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ ، قَالَ : ثَنَا عَفَّانَ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ۔ قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّہٗ لَا بَأْسَ بِالتَّخْیِیْرِ بَیْنَ الْأَنْبِیَائِ فَیُقَالُ : اِنَّ فُلَانًا خَیْرٌ مِنْ فُلَانٍ ، عَلٰی مَا جَائَ مِمَّا کَانَ فِیْ کُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمْ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَکَرِہُوْا التَّخْیِیْرَ بَیْنَ الْأَنْبِیَائِ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ۔
٦٩٦٨: مختار بن فلفل نے حضرت انس (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ انبیاء (علیہم السلام) کے درمیان ترجیح میں کوئی حرج نہیں۔ مثلاً کہ فلاں فلاں سے بہتر ہے مگر یہ ان صفات میں ہوگا جو انفرادی طور پر ان میں پائی جاتی ہیں۔ انبیاء (علیہم السلام) میں ایک دوسرے پر ترجیح دینا جائز نہیں انھوں نے ان روایات سے استدلال کیا ہے۔