hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6976

.

الطحاوي

6976
Al Tahawi
۶۹۷۳ : عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ ، عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُخَیِّرُوْنِیْ عَلٰی مُوْسٰی، فَاِنَّ النَّاسَ یَصْعَقُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ، فَأَکُوْنُ أَوَّلَ مَنْ یُفِیْقُ ، فَاِذَا مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ ، بَاطِشٌ بِجَانِبِ الْعَرْشِ ، فَلَا أَدْرِی أَصُعِقَ فِیْمَنْ کَانَ صُعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِیْ، أَوْ کَانَ فِیْمَنِ اسْتَثْنَی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ ؟۔فَنَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُفَضِّلُوْھُ عَلَی مُوْسَیْ وَقَالَ لَہُمْ اِنِّیْ أَوَّلُ مَنْ یُفِیْقُ مِنِ الصَّعْقَۃِ ، فَأَجِدُ مُوْسَیْ قَائِمًا ، فَلَا أَدْرِی أَکَانَ فِیْمَنْ صُعِقَ قَبْلِیْ، فَأَفَاقَ قَبْلِیْ، أَمْ کَانَ فِیْمَنِ اسْتَثْنَی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ ؟۔فَکَانَ ذٰلِکَ عِنْدَنَا عَلٰی أَنَّہٗ جَازَ عِنْدَہٗ أَنْ یَکُوْنَ فِیْمَا اسْتَثْنَی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَلَمْ تُصِبْہُ الصَّعْقَۃُ ، فَفُضِّلَ بِذٰلِکَ ، أَوْ صُعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلَہٗ، فَکَانَ فِیْ مَنْزِلَتِہٖ ، لِأَنَّہُمَا قَدْ صُعِقَا جَمِیْعًا .فَکَرِہَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِذٰلِکَ ، تَفْضِیْلَہٗ عَلَیْہٖ، لِمَا احْتَمَلَ تَخَطِّی الصَّعْقَۃِ اِیَّاہُ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَیْضًا أَنَّہٗ قَالَ لَا یَنْبَغِیْ لِأَحَدٍ أَنْ یَقُوْلَ : أَنَا خَیْرٌ مِنْ یُوْنُسَ بْنِ مَتّٰی۔
٦٩٧٣: سعید بن مسیب (رض) نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم مجھے موسیٰ (علیہ السلام) پر فضیلت مت دو ۔ بیشک لوگ قیامت کے دن بےہوش ہوجائیں گے میں سب سے پہلے ہوش میں آؤں گا۔ اچانک موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھوں گا کہ وہ عرش کے پائے کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہیں مجھے معلوم نہیں کہ آیا وہ بےہوش ہونے والوں میں بیہوش ہوئے اور پھر مجھ سے پہلے ان کو ہوش آگیا یا وہ ان لوگوں سے ہیں جن کو اس سے مستثنیٰ کیا گیا ہے۔ (الا من شاء اللہ کی طرف اشارہ فرمایا) جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے موسیٰ (علیہ السلام) پر فضیلت سے منع فرمایا اور یہ فرمایا کہ مجھے پہلے ہوش آئے گا تو میں موسیٰ (علیہ السلام) کو کھڑا پاؤں گا۔ اب مجھے معلوم نہیں کہ آیا وہ بےہوش ہونے والوں سے ہیں یا وہ ان لوگوں سے ہیں کہ جن کو اس بےہوشی سے مستثنیٰ کردیا گیا ہے۔ پس ہمارے ہاں اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے اس بات کو جائز قرار دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) ان لوگوں سے ہوں جو کہ بےہوشی سے مستثنیٰ ہوں اور انھیں بےہوشی پہنچی ہی نہیں تو اس لحاظ سے ان کو فضیلت حاصل ہو یا وہ بےہوش ہوئے مگر آپ سے پہلے ان کو افاقہ ہوگیا (اس لحاظ سے فضیلت ہو) تو دونوں ایک ہی درجہ میں ہوئے اس لیے کہ دونوں میں بےہوشی طاری ہوئی تو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس وجہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر اپنی فضیلت ظاہر کرنے کو ناپسند فرمایا کیونکہ ممکن ہے کہ وہ بےہوشی سے محفوظ رہے ہوں حالانکہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کسی آدمی کو یہ کہنا جائز نہیں ہے کہ میں حضرت یونس بن متی سے افضل و بہتر ہوں۔ روایت یہ ہے :
تخریج : بخاری فی الخصومات باب ١‘ احادیث الانبیاء باب ٣١‘ تفسیر سورة ٨‘ مسلم فی الفضائل ١٦٠‘ ابو داؤد فی السنہ باب ١٣‘ مسند احمد ٢؍٢٦٤۔