۶۹۸۴ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ ، قَالَ : ثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ أَبِیْہِ‘ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ ، عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ أَنَّہٗ اسْتَأْذَنَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ کِتَابَۃِ الْعِلْمِ ، فَلَمْ یَأْذَنْ لَہٗ ۔ قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی کَرَاہَۃِ کِتَابَۃِ الْعِلْمِ ، وَنُہُوْا عَنْ ذٰلِکَ ، وَاحْتَجُّوْا فِیْہِ بِمَا ذَکَرْنَاہُ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَلَمْ یَرَوْا بِکِتَابَۃِ الْعِلْمِ بَأْسًا ، وَعَارَضُوْا مَا احْتَجَّ بِہٖ عَلَیْہِمْ مُخَالِفُہُمْ ، مِنَ الْأَثَرِ الَّذِیْ ذَکَرْنَاہٗ، بِمَا قَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .
٦٩٨٤: عطاء ابن یسار کہتے ہیں کہ حضرت ابو سعید خدری (رض) نے نقل کیا کہ میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے علمی باتیں لکھنے کی اجازت طلب کی تو آپ نے اجازت نہیں دی۔ امام طحاوی (رح) : کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ علم کا لکھنا مکروہ ہے اور وہ اس سے منع کرتے ہیں اور اس روایت کو بطور دلیل کے پیش کرتے ہیں۔ فریق ثانی کا مؤقف ہے کہ کتابت علم میں کوئی حرج نہیں اور اس کا ثبوت یہ روایت ہے جو آئندہ سطور میں ذکر کر رہے ہیں۔
تخریج : ترمذی فی العلم باب ١١۔
خلاصہ الزام :
بعض لوگوں کا خیال یہ ہے کہ علم کا لکھنا مکروہ ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف : کتابت علم میں کچھ حرج نہیں ہے۔