۶۹۸۶ : حَدَّثَنَا أَبُو أُمَیَّۃَ قَالَ : ثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ مُوْسٰی، قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ التَّیْمِیِّ ، عَنْ أَبِیْہِ‘ عَنْ عَلِیْ قَالَ : لَیْسَ عِنْدَنَا ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ کِتَابٍ ، اِلَّا کِتَابُ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَشَیْئٌ فِیْ ہٰذِہٖ الصَّحِیْفَۃِ الْمَدِیْنَۃُ حَرَامٌ ، مَا بَیْنَ عِیْرٍ اِلٰی ثَوْرٍ وَفِی الْحَدِیْثِ غَیْرُ ہٰذَا .
٦٩٨٦: ابراہیم تیمی نے اپنے والد سے انھوں نے حضرت علی (رض) سے روایت کی ہے کہ ہمارے پاس جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے کتاب اللہ کے سوا اور کوئی کتاب نہیں اور ایک چیز جو اس صحیفہ میں ہے کہ مدینہ حرم ہے اور اس کی حدود جبل عیر سے ثور تک ہے۔ اور حدیث میں اس کے علاوہ مذکور ہے۔
تخریج : بخاری فضائل المدینہ باب ١‘ مسند احمد ١؍١١٩۔