hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6993

.

الطحاوي

6993
Al Tahawi
۶۹۹۰ : حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْجِیزِیُّ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ أَبِیْ مَرْیَمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِیْ یَحْیٰی بْنُ أَیُّوْبَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَطَائٍ ، عَنْ أَبِیْہِ‘ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ، عَنْ أَبِیْہِ‘ عَنْ جَدِّہٖ قَالَ : قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، اِنِّیْ أَسْمَعُ مِنْک أَشْیَائَ ، أَخَافُ أَنْ أَنْسَاہَا ، أَفَتَأْذَنُ لِیْ أَنْ أَکْتُبَہَا قَالَ : نَعَمْ۔فَفِیْ ہٰذِہِ الْآثَارِ ، الْاِبَاحَۃُ لِکِتَابَۃِ الْعِلْمِ ، وَخِلَافٌ لِحَدِیْثِ ، أَبِیْ سَعْدٍ الَّذِیْ ذَکَرْنَاہُ فِیْ أَوَّلِ ہٰذَا الْبَابِ .وَہٰذَا أَوْلٰی بِالنَّظَرِ ، لِأَنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ : فِی الدَّیْنِ وَلَا تَسْأَمُوْا أَنْ تَکْتُبُوْھُ صَغِیْرًا أَوْ کَبِیْرًا اِلٰی أَجَلِہِ ذٰلِکُمْ أَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ وَأَقْوَمُ لِلشَّہَادَۃِ وَأَدْنَی أَلَّا تَرْتَابُوْا۔فَلَمَّا أَمَرَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ بِکِتَابَۃِ الدَّیْنِ خَوْفَ الرَّیْبِ ، کَانَ الْعِلْمُ الَّذِی حِفْظُہٗ أَصْعَبُ مِنْ حِفْظِ الدَّیْنِ أَحْرٰی أَنْ تُبَاحَ کِتَابَتُہٗ، خَوْفَ الرَّیْبِ فِیْہٖ، وَالشَّکِّ .وَہٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدٍ ، رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی .وَقَدْ رُوِیَ فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا عَمَّنْ بَعْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مَا یُوَافِقُ ہٰذَا .
٦٩٩٠: عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے انھوں نے اپنے دادا سے روایت کی ہے کہ میں نے گزارش کی یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں آپ سے کئی بائیں سنتا ہوں جن کے بھول جانے کا ڈر رہتا ہے کیا آپ مجھے لکھنے کی اجازت دیتے ہیں فرمایا جی ہاں۔ ان آثار سے ابو سعید کی روایت کے خلاف علم کے لکھنے کا جواز ثابت ہو رہا ہے۔ قیاس کے اعتبار سے بھی یہ بات درست ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرضے کے سلسلے میں فرمایا ” ولا تسئموا ان تکتبوہ “ (البقرہ ٢٨٢) جب اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قرضے کے متعلق شک کے خطرے کے پیش نظر لکھنے کا حکم دیا تو وہ علم جس کا محفوظ کرنا قرض کی حفاظت سے بھی زیادہ مشکل ہو اس کے لکھنے کا جواز مناسب تر ہے تاکہ اس میں شک و شبہ کا گزر نہ ہو یہی امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔
تخریج : مسند احمد ٢؍٢١٥۔
صحابہ ] وتابعین (رض) کے اقوال سے اس کی تائید :