۶۹۹۸ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا وَہْبٌ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِیْ اِسْحَاقَ عَنْ أَبِی الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ أَنَّ نَاسًا أَتَوُا النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِصَاحِبٍ لَہُمْ ، فَسَأَلُوْھُ أَنَکْوِیْہٖ؟ ، فَسَکَتَ ، فَسَأَلُوْھُ ، فَسَکَتَ ، ثُمَّ سَأَلُوْھُ فَقَالَ ارْضِفُوْھُ أَوْ حَرِّقُوْھُ وَکَرِہَ ذٰلِکَ۔
٦٩٩٨: ابوالاحوص حضرت عبداللہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک ساتھی کو لے کر حاضر ہوئے اور انھوں نے پوچھا کیا ہم اس کو داغ دے سکتے ہیں ؟ تو آپ نے خاموشی اختیار فرمائی۔ انھوں نے پھر پوچھا۔ آپ نے پھر خاموشی اختیار فرمائی۔ انھوں نے تیسری مرتبہ پوچھا تو آپ نے فرمایا اس کو گرم پتھر سے خواہ داغو یا گرم لوہے سے داغو (تمہاری مرضی ہے) اور آپ نے اس کو پسند نہ فرمایا۔
تخریج : مسند احمد ١؍٣٩٠۔
خلاصہ الزام :
داغنا ممنوع ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف : اگر کسی چیز کا علاج داغنے میں ہو تو اس میں داغنا گناہ نہیں۔