۷۰۱۴: حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَامِرٍ الْعَقَدِیُّ وَابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَا : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اِنْ یَکُنْ فِیْ شَیْئٍ مِنْ أَدْوِیَتِکُمْ ہٰذِہِ خَیْرٌ ، فَفِیْ شَرْطَۃِ مِحْجَمٍ ، أَوْ شَرْبَۃِ عَسَلٍ ، أَوْ لَذْعَۃِ نَارٍ ، تُوَافِقُ دَائً ، وَمَا أُحِبُّ أَنْ أَکْتَوِیَ۔فَاِذَا کَانَ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ لَذْعَۃَ النَّارِ الَّتِیْ تُوَافِقُ الدَّائَ مُبَاحَۃٌ ، وَالْکَیَّ مَکْرُوْہٌ ، وَکَانَتِ اللَّذْعَۃُ بِالنَّارِ کَیَّۃً ، ثَبَتَ أَنَّ الْکَیَّ الَّذِیْ یُوَافِقُ الدَّائَ مُبَاحٌ ، وَأَنَّ الْکَیَّ الَّذِیْ لَا یُوَافِقُ الدَّائَ مَکْرُوْہٌ .وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُوْنَ الْکَیُّ مَنْہِیًّا عَنْہُ عَلٰی مَا فِی الْآثَارِ الْأُوَلِ ، ثُمَّ أُبِیْحَ بَعْدَ ذٰلِکَ عَلٰی مَا فِیْ ہٰذِہِ الْآثَارِ الْأُخَرِ۔
٧٠١٤: عاصم بن عمر نے حضرت جابر (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر تمہاری ان چیزوں میں سے کسی میں شفا ہے تو وہ سینگی کے پچھنے ‘ شہد کا گھونٹ ‘ آگ کا داغنا جو اس بیماری کے مناسب ہو۔ اور میں داغنے کو پسند نہیں کرتا۔ اس روایت میں گرم لوہے کے کنارے سے داغنے کو جب کہ مرض کے موافق ہو درست قرار دیا گیا اور داغ کو ناپسند کیا گیا حالانکہ لذعۃ بالنار بھی داغ ہے تو اس سے ثابت ہوا کہ جو داغ بیماری کے مناسب ہو وہ مباح ہے اور جو بیماری کے موافق نہ ہو وہ مکروہ ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ جس داغ کی آثار اول میں ممانعت ہے وہ شروع میں ہو اور بعد میں اس کو مباح کردیا گیا ہو جیسا کہ دوسرے آثار میں داغنے کا ثبوت موجود ہے۔ جیسا روایت ابن ابی داؤد میں ہے۔ (ملاحظہ ہو)
تخریج : بخاری فی الطب باب ٤؍١٥‘ مسلم فی السلام ٧١‘ مسند احمد ٣؍٣٤٣۔