hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 7016

.

الطحاوي

7016
Al Tahawi
۷۰۱۳: حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوْنُسَ قَالَ : ثَنَا زُہَیْرٌ قَالَ : ثَنَا أَبُو الزُّبَیْرِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : کَوٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَعْدًا أَوْ أَسْعَدَ بْنَ زُرَارَۃَ مِنَ الذَّبْحَۃِ فِیْ حَلْقِہٖ ۔ فَفِیْ ہٰذِہِ الْأَخْبَارِ اِبَاحَۃُ الْکَیِّ لِلدَّائِ الْمَذْکُوْرِ ، فِیْہَا وَفِی الْآثَارِ الْأُوَلِ ، النَّہْیُ عَنِ الْکَیِّ .فَاحْتَمَلَ أَنْ یَکُوْنَ الْمَعْنَی الَّذِیْ کَانَتْ لَہُ الْاِبَاحَۃُ فِیْ ہٰذِہِ الْآثَارِ ، غَیْرَ الْمَعْنَی الَّذِیْ کَانَ لَہٗ النَّہْیُ فِی الْآثَارِ الْأُوَلِ .وَذٰلِکَ أَنَّ قَوْمًا کَانُوْا یَکْتَوُوْنَ قَبْلَ نُزُوْلِ الْبَلَائِ بِہِمْ ، یَرَوْنَ أَنَّ ذٰلِکَ یَمْنَعُ الْبَلَائَ أَنْ یَنْزِلَ بِہِمْ ، کَمَا تَفْعَلُ الْأَعَاجِمُ .فَہٰذَا مَکْرُوْہٌ لِأَنَّہٗ لَیْسَ عَلَی طَرِیْقِ الْعِلَاجِ وَہُوَ شِرْکٌ لِأَنَّہُمْ یَفْعَلُوْنَہُ لِیَدْفَعَ قَدَرَ اللّٰہِ عَنْہُمْ .فَأَمَّا مَا کَانَ بَعْدَ نُزُوْلِ الْبَلَائِ ، اِنَّمَا یُرَادُ بِہٖ الصَّلَاحُ ، وَالْعِلَاجُ مُبَاحٌ مَأْمُوْرٌ .وَقَدْ بَیَّنَ ذٰلِکَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ فِیْ حَدِیْثٍ رَوَاہٗ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .
٧٠١٣: عمرو بن شعیب نے کسی صحابی رسول سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سعد یا اسعد بن زرارہ (رض) کو گلے میں سوراخ کی وجہ سے داغا۔ ان روایات سے داغ کو مندرجہ بالا امراض کے لیے داغنا ثابت ہوتا ہے جبکہ شروع باب کی روایات ممانعت کی طرف مشیر ہیں اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ ممکن ہے جن چیزوں کے سلسلہ میں اباحت ہو اور دوسری چیزوں کے لیے ممانعت ہو جیسا کہ آثار اول میں وارد ہے اور وہ یہ ہے کہ تکلیف کے آنے سے پہلے پیشگی داغنا تاکہ وہ تکلیف نہ آئے جیسا کہ عجم میں رواج ہے یہ مکروہ و ممنوع ہے کیونکہ یہ علاج کے لیے نہیں بلکہ یہ تو شرک کی ایک قسم ہے۔ تاکہ تقدیر الٰہی کو ٹالا جائے (جو کہ ٹالنا ممکن نہیں) باقی تکلیف اترنے پر درستگی کے لیے مباح ہے کیونکہ علاج مباح ہے جس کا حکم دیا گیا ہے۔ اور اس کا ثبوت اس روایت سے ملتا ہے۔
تخریج : ابو داؤد فی الطب باب ٧‘ ترمذی فی الطب باب ١١‘ مسند احمد ٤؍٦٥‘ ٥‘ ٣٧٨۔
روایت جابر (رض) :