۷۰۱۶: حَدَّثَنَا ابْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا مُسْلِمُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْبَکْرِ بْنُ عَلِیْ قَالَ : ثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاۃَ عَنْ مَکْحُوْلٍ عَنْ ابْنِ مُحَیْرِیْزٍ قَالَ : قُلْت لِفَضَالَۃَ بْنِ عَبْدٍ أَمِنْ السُّنَّۃِ أَنْ یُقْطَعَ السَّارِقُ ، وَیُعَلَّقَ فِیْ عُنُقِہٖ؟ .فَقَالَ : نَعَمْ ، اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أُتِیَ بِسَارِقٍ ، فَأَمَرَ بِہٖ ، فَقُطِعَتْ یَدُہٗ، ثُمَّ حَسَمَہٗ، ثُمَّ عَلَّقَہَا فِیْ عُنُقِہِ۔
٧٠١٦: ابن محیریز کہتے ہیں کہ میں نے حضرت فضالہ بن عبداللہ سے دریافت کیا کہ کیا یہ سنت ہے کہ چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کی گردن میں لٹکا دیا جائے ؟ تو انھوں نے کہا جی ہاں ! جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک چور لایا گیا پس آپ نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا وہ کاٹ دیا گیا پھر اس کو داغا گیا اور کٹے ہوئے ہاتھ کو اس کی گردن میں لٹکا دیا گیا
تخریج : ابن ماجہ فی الحدود باب ٢٣۔