۷۰۱۷: حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ : ثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ خُصَیْفَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ ثَوْبَانَ قَالَ : أُتِیَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ سَرَقَ شَمْلَۃً ، فَقَالَ : أَسَرَقْتُ؟ مَا اِخَالُ سَرَقْت اذْہَبُوْا بِہٖ فَاقْطَعُوْھُ ، ثُمَّ احْسِمُوْھُ ثُمَّ قَالَ : تُبْ اِلَی اللّٰہِ۔فَفِیْ ہٰذِہِ أَیْضًا ، دَلِیْلٌ عَلَی اِبَاحَۃِ الْکَیِّ الَّذِیْ یُرَادُ بِہٖ الْعِلَاجُ ، لِأَنَّہٗ دَوَائٌ .وَقَدْ سَأَلَ الْأَعْرَابُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوْا : أَلَا نَتَدَاوَیْ؟ .فَکَانَ جَوَابُہٗ لَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ۔
٧٠١٧: یزید بن خصیفہ نے محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک چور لایا گیا جس نے ایک چادر چوری کی تھی آپ نے فرمایا کیا تم نے چوری کی ہے ؟ میرا خیال تو نہ تھا کہ تم چوری کرو گے۔ پھر فرمایا اس کو لے جا کر اس کا ہاتھ کاٹ دو ۔ پھر اس کو داغ دو ۔ پھر فرمایا تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرو۔ اس روایت میں بھی اس داغ کا تذکرہ ہے جس سے علاج مقصود ہے کیونکہ وہ اس وقت دواء ہے دیہاتیوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا کہ کیا ہم علاج معالجہ نہ کریں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ جواب عنایت فرمایا۔
تخریج : نسائی فی السارق باب ٣۔
تداوی کی اجازت :