۷۰۳۱: مَا حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ یَحْیٰی بْنُ أَیُّوْبَ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ زَحْرٍ عَنْ بَکْرِ بْنِ سِوَادَۃَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ صُدَائَ قَالَ : أَتَیْنَا النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا ، فَبَایَعْنَاہٗ، وَتَرَکَ رَجُلًا مِنَّا لَمْ یُبَایِعْہٗ فَقُلْنَا : بَایِعْہُ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ، فَقَالَ لَنْ أُبَایِعَہٗ حَتّٰی یَنْزِعَ الَّذِیْ عَلَیْہٖ، اِنَّہٗ مَنْ کَانَ مِنَّا، مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْہٖ، کَانَ مُشْرِکًا مَا کَانَتْ عَلَیْہِ۔فَنَظَرْنَا فَاِذَا فِیْ عَضُدِہٖ سَیْرٌ مِنْ لَحْیِ شَجَرَۃٍ أَوْ شَیْئٌ مِنِ الشَّجَرَۃِ .
٧٠٣١: بکر بن سوادہ نے بنو صداء کے ایک آدمی سے نقل کیا کہ ہم جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے۔ ہم بارہ آدمی تھے۔ ہم نے بیعت کی آپ نے ایک آدمی کو چھوڑ دیا اس سے بیعت نہیں لی۔ ہم نے گزارش کی کہ اسے بیعت فرما لیں یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے فرمایا اس کو میں اس وقت بیعت نہ کروں گا یہاں تک کہ یہ اس چیز کو اتار دے جو اس نے پہن رکھی ہے جو ہم میں سے اس طرح کی چیز پہنے وہ اس وقت مشرک خیال کیا جاتا ہے جب تک وہ چیز اس پر رہے پس ہم نے جب پڑتال کی تو اس آدمی کے بازو پر درخت میں سے یا درخت کی چھال کا تسمہ تھا۔