hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 7033

.

الطحاوي

7033
Al Tahawi
۷۰۳۰: مَا حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنْ أُمِّ قَیْسِ بِنْتِ مِحْصَنٍ ، قَالَتْ : دَخَلْتُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لِی ، وَقَدْ عَلَّقْتُ عَلَیْہِ مِنَ الْعُذْرَۃِ فَقَالَ: عَلٰی مَا تَدْزَعَنَ أَوْلَادَکُنَّ بِہٰذَا الْعِلَاقِ ، عَلَیْکُنَّ بِہٰذَا الْعُوْدِ الْہِنْدِیِّ ، فَاِنَّ فِیْہِ سَبْعَۃَ أَشْفِیَۃٍ مِنْہَا ذَاتُ الْجَنْبِ یُسْعَطُ مَنِ الْعُذْرَۃِ ، وَیُلَدُّ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ۔فَقَدْ یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُوْنَ ذٰلِکَ الْعِلَاقُ کَانَ مَکْرُوْہًا فِیْ نَفْسِہٖ، لِأَنَّہٗ کُتِبَ فِیْہِ مَا لَا یَحِلُّ کِتَابَتُہُ فَکَرِہَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِذٰلِکَ لَا لِغَیْرِہٖ۔ وَقَدْ رُوِیَ فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا۔
٧٠٣٠: ام قیس بنت محصن کہتی ہیں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اپنے ایک بیٹے کو لے کرگئی جس کو میں نے تعویذ باندھا ہوا تھا آپ نے فرمایا تم اپنی اولاد سے ان تعویذوں کے سبب کیوں غفلت اختیار کرتی ہو تم عود ہندی استعمال کرو اس میں سات چیزوں کا علاج ہے پسلی کا درد اور حلق کے درد میں اس کو ناک میں ٹپکایا جائے اور پسلی کے درد میں منہ کے کنارے سے پلایا جائے۔ اس میں یہ احتمال ہے کہ تعویذ کا لٹکانا ذاتی اعتبار سے بھی برا ہو کیونکہ اس زمانے میں ایسی چیزیں اس میں لکھی جاتی تھیں جن کا لکھنا جائز نہیں اس لیے آپ نے اس کو ناپسند کیا اور کوئی وجہ نہ تھی جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس سلسلے میں یہ روایت بھی وارد ہے۔
تخریج : بخاری فی الطب باب ٢١‘ مسلم فی السلام روایت ٨٦‘ ابو داؤد فی الطب باب ١٣‘ ابن ماجہ فی الطب باب ١٣‘ مسند احمد ٦؍٣٥٥۔