hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 7052

.

الطحاوي

7052
Al Tahawi
۷۰۴۹: حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا أَبُو غَسَّانَ وَأَحْمَدُ بْنُ یُوْنُسَ قَالَا : ثَنَا زُہَیْرٌ قَالَ : ثَنَا أَبُو اِسْحَاقَ عَنِ ابْنِ أَبِیْ نَجِیْحٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بَابَاہُ عَنْ أَسْمَائِ بِنْتِ عُمَیْسٍ قَالَتْ : قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، اِنَّ الْعَیْنَ تَسْرُعُ اِلٰی بَنِیْ جَعْفَرٍ ، فَأَسْتَرْقِیْ لَہُمْ ؟ قَالَ نَعَمْ ، فَلَوْ أَنَّ شَیْئًا یَسْبِقُ الْقَدَرَ ، لَقُلْت اِنَّ الْعَیْنَ تَسْبِقُہٗ ۔ فَہٰذَا یُحْتَمَلُ مَا ذَکَرْنَا فِیْ رُقْیَۃِ النَّمْلَۃِ وَالْجُنُوْنِ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَیْضًا ، الرُّخْصَۃُ فِی الرُّقْیَۃِ ، مِنْ کُلِّ ذِیْ حُمَّۃٍ .
٧٠٤٩: عبداللہ بن باباہ نے حضرت اسماء بنت عمیس (رض) سے روایت کی ہے کہ میں نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اولاد جعفر کو بہت جلد نظر لگ جاتی ہے۔ کیا میں ان کو دم کرا لوں ؟ فرمایا جی ہاں۔ پھر فرمایا اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کرتی تو میں کہتا وہ نظر سبقت کرتی۔ اس روایت میں بھی وہی احتمال ہے جو چیونٹی اور جنون میں ہم نے ذکر کیا اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہر بخار والے کے لیے دم کی رخصت بھی ثابت ہے۔
تخریج : مسلم فی السلام ٤٢؍٦٠‘ ترمذی فی الطب باب ١٧‘ ابن ماجہ فی الطب باب ٣٣‘ مالک فی العین ٣٣‘ مسند احمد ٦؍٤٣٨۔
بخار والے وغیرہ کے لیے دَم کی رخصت :