hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 7063

.

الطحاوي

7063
Al Tahawi
۷۰۶۰: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ ثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ سَیَّارٍ فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی کَرَاہَۃِ الْحَدِیْثِ بَعْدَ الْعِشَائِ الْآخِرَۃِ ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : أَمَّا الْکَلَامُ الَّذِیْ لَیْسَ بِقُرْبَۃٍ اِلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَاِنْ کَانَ لَیْسَ بِمَعْصِیَۃٍ ، فَہُوَ مَکْرُوْہٌ حِیْنَئِذٍ لِأَنَّہٗ مُسْتَحَبٌّ لِلرَّجُلِ أَنْ یَنَامَ عَلٰی قُرْبَۃٍ، وَخَیْرٍ ، وَفَضْلٍ یَخْتِمُ بِہٖ عَمَلَہٗ۔فَأَفْضَلُ الْأَشْیَائِ لَہٗ، أَنْ یَنَامَ عَلَی الصَّلَاۃِ فَتَکُوْنُ ہِیَ آخِرُ عَمَلِہٖ. وَاحْتَجُّوْا فِیْ اِبَاحَۃِ الْحَدِیْثِ بَعْدَ الْعِشَائِ۔
٧٠٦٠: حماد بن سلمہ نے سیار سے اور پھر انھوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ مام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ نماز عشاء کے بعد گفتگو درست نہیں بلکہ مکروہ ہے انھوں نے اس روایت کو دلیل بنایا۔ جو کلام قرب الٰہی کا ذریعہ نہ ہو اگرچہ وہ معصیت بھی نہ ہو وہ مکروہ ہے کیونکہ آدمی کے لیے مستحب یہ ہے کہ عبادت یا نیکی کر کے سو جائے اور اپنا عمل کسی بھلائی پر ختم کرے پس اس کے لیے سب سے بہتر یہی ہے کہ وہ نماز پڑھ کر سو جائے تاکہ اس کا یہ آخری عمل ہو انھوں نے مندرجہ ذیل روایات کو دلیل بنایا ہے۔