hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 7068

.

الطحاوي

7068
Al Tahawi
۷۰۶۵: فَاِذَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ قَدْ حَدَّثَنَا قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ زِیَادٍ قَالَ ثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْجَرِیْرِیِّ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَۃَ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ مَوْلَی الْأَنْصَارِ قَالَ : کَانَ عُمَرُ لَا یَدَعُ سَامِرًا بَعْدَ الْعِشَائِ ، یَقُوْلُ ارْجِعُوْا ، لَعَلَّ اللّٰہَ یَرْزُقُکُمْ صَلَاۃً أَوْ تَہَجُّدًا ۔ فَانْتَہٰی اِلَیْنَا ، وَأَنَا قَاعِدٌ مَعَ ابْنِ مَسْعُوْدٍ وَأُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ، وَأَبِیْ ذٰرٍ فَقَالَ مَا یُقْعِدُکُمْ ؟ قُلْنَا أَرَدْنَا أَنْ نَذْکُرَ اللّٰہَ ، فَقَعَدَ مَعَہُمْ .فَہٰذَا عُمَرُ ، قَدْ کَانَ یَنْہَاہُمْ عَنْ السَّمَرِ بَعْدَ الْعِشَائِ ، لِیَرْجِعُوْا اِلٰی بُیُوْتِہِمْ ، لِیُصَلُّوْا ، أَوْ لِیَنَامُوْا نَوْمًا ، ثُمَّ یَقُوْمُوْنَ لِصَلَاۃٍ ، یَکُوْنُوْنَ بِذٰلِکَ مُتَہَجِّدِیْنَ .فَلَمَّا سَأَلَہُمْ : مَا الَّذِی أَقْعَدَہُمْ ؟ فَأَخْبَرُوْھُ أَنَّہٗ ذِکْرُ اللّٰہِ - لَمْ یُنْکِرْ ذٰلِکَ عَلَیْہِمْ وَقَعَدَ مَعَہُمْ ، لِأَنَّ مَا کَانَ یُقِیْمُہُمْ لَہٗ ہُوَ الَّذِیْ ھُمْ قُعُوْدٌ لَہٗ۔فَثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّ السَّمَرَ الَّذِیْ فِیْ حَدِیْثِ أَبِیْ وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَعُمَرَ ، حَبَّبَاہُ اِلَیْہِمْ ، ہُوَ الَّذِیْ فِیْہِ قُرْبَۃٌ اِلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَالنَّہْیُ عَنْہُ فِیْ حَدِیْثِ أَبِیْ بَرْزَۃَ ہُوَ : مَا لَا قُرْبَۃَ فِیْہِ لِیَسْتَوِیَ مَعَانِیْ ہٰذِہِ الْآثَارِ ، لِتَتَّفِقَ ، وَلَا تَتَضَادَّ .وَقَدْ رَوَیْنَا عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ ، وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ أَنَّہُمَا سَمَرَا اِلٰی طُلُوْعِ الثُّرَیَّا .فَذٰلِکَ - عِنْدَنَا - عَلَی السَّمَرِ الَّذِیْ ھُوَ قُرْبَۃٌ ، اِلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ وَقَدْ ذَکَرْنَا ذٰلِکَ الْحَدِیْثَ بِاِسْنَادِہِ فِیْمَا تَقَدَّمَ ، مِنْ کِتَابِنَا ہٰذَا .وَقَدْ رُوِیَ ، عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا أَیْضًا مِنْ طَرِیْقٍ لَیْسَ مِثْلُہٗ یَثْبُتُ ، أَنَّہَا قَالَتْ لَا سَمَرَ اِلَّا لِمُصَل ، أَوْ مُسَافِرٍ فَذٰلِکَ - ؟ عِنْدَنَا ، اِنْ ثَبَتَ عَنْہَا غَیْرُ مُخَالِفٍ لِمَا رَوَیْنَا ، وَذٰلِکَ أَنَّ الْمُسَافِرَ یَحْتَاجُ اِلٰی مَا یَدْفَعُ النَّوْمَ عَنْہُ، لِیَسِیْرَ ، فَأُبِیْحَ بِذٰلِکَ السَّمَرُ ، وَاِنْ کَانَ لَیْسَ بِقُرْبَۃٍ ، مَا لَمْ تَکُنْ مَعْصِیَۃً ، لِاحْتِیَاجِہِ اِلَی ذٰلِکَ .فَہٰذَا مَعْنٰی قَوْلِہَا لَا سَمَرَ اِلَّا الْمُسَافِرُ۔وَأَمَّا قَوْلُہَا أَوْ مُصَل فَمَعْنَاہُ - عِنْدَنَا - عَلَی الْمُصَلِّیْ بَعْدَمَا یَسْمُرُ ، فَیَکُوْنُ نَوْمُہُ اِذَا نَامَ بَعْدَ ذٰلِکَ عَلَی الصَّلَاۃِ ، لَا عَلَی السَّمَرِ .فَقَدْ عَادَ ہٰذَا الْمَعْنٰی اِلَی الْمَعْنَی الَّذِیْ صَرَفْنَا اِلَیْہِ مَعَانِی الْآثَارِ الْأُوَلِ ، وَاللّٰہُ أَعْلَمُ
٧٠٦٥: ابو نضرہ ‘ ابو سعید جو انصار کے مولیٰ تھے ان سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) عشاء کے بعد کسی گفتگو کرنے والے کو نہ چھوڑتے بلکہ فرماتے لوٹ جاؤ شاید کہ اللہ تعالیٰ تمہیں نماز یا تہجد کا لفظ فرمایا نصیب فرما دے چنانچہ آپ ہم تک پہنچے میں اس وقت ابن مسعود ‘ ابی ‘ اور حضرت ابو ذر (رض) کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا آپ نے فرمایا کیوں بیٹھے ہو ہم نے کہا ہم اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے بیٹھے ہیں تو آپ ہمارے ساتھ بیٹھ گئے۔ یہ حضرت عمر (رض) ہیں جو عشاء کے بعد گفتگو سے منع فرماتے ہیں تاکہ وہ اپنے گھروں میں لوٹ جائیں اور وہاں نماز پڑھیں یا سو جائیں اور پھر نماز کے لیے اٹھیں تاکہ اس سے وہ تہجد گزار بن جائیں پھر جب وہ پوچھتے ہیں کہ وہ کس لیے بیٹھے ہیں اور وہ بتلاتے ہیں کہ وہ اللہ کو یاد کرنے کے لیے بیٹھے ہیں تو آپ ان کی بات کا انکار نہیں کرتے بلکہ ان کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں کیونکہ جس بات کے لیے آپ ان کو اٹھانا چاہتے ہیں وہ اسی کے لیے بیٹھے ہیں اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ وہ گفتگو جس کا ذکر حضرت عبداللہ اور حضرت عمر (رض) کی روایات میں آیا جس کے لیے آپ ان کی طرف متوجہ ہوئے یہ گفتگو قرب الٰہی کا ذریعہ ہے اور ابو برزہ کی روایت میں جس سے ممانعت کی گئی وہ وہی گفتگو ہے جو قرب الٰہی کا ذریعہ نہ ہو یہ تاویل اس لیے کی گئی تاکہ روایات کے معانی متفق ہوجائیں اور ان میں تضاد نہ رہے ہم نے ابن عباس (رض) اور مسور بن مخرمہ (رض) کے متعلق یہ نقل کیا کہ ثریا ستاروں کے طلوع تک وہ گفتگو کرتے رہے تو ہمارے نزدیک اس سے مراد ایسی گفتگو ہے جو اللہ کے قرب کا باعث ہو حضرت عائشہ (رض) سے ایسی سند سے روایت ثابت ہے جو درست نہیں کہ انھوں نے فرمایا ” لاسمرالامصل او مسافر “ اول تو یہ روایت ثابت نہیں اور اگر ثابت ہو تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ مسافر کو سفر پر روانہ ہونے کے لیے جاگنے کی ضرورت ہے اس لیے گفتگو اس کے لیے مباح کی گئی اگرچہ یہ گفتگو عبادت نہ ہو لیکن ضرورت کی وجہ سے جائز ہوگی جب تک کہ معصیت کی گفتگو نہ ہو اسی طرح او مصل کا معنی بھی ہمارے نزدیک یہ ہے کہ وہ نمازی جو کہ گفتگو کے بعد نماز پڑھے تو اس کی نیند نماز پر ہو گفتگو پر نہ ہو اب ان روایات کا معنی بھی اسی تاویل کے مطابق ہوگیا جو ہم نے شروع باب کی روایات کا ذکر کیا ہے۔