۷۰۹۱: حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ وَمَنْصُوْرٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَہٗ۔قَالُوْا : فَقَدْ نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُتَکَنَّیْ بِکُنْیَتِہٖ، وَأَبَاحَ أَنْ یُتَسَمّٰی بِاسْمِہٖ، وَجَائَ ذٰلِکَ عَنْہُ مَجِیْئًا ظَاہِرًا مُتَوَاتِرًا ، فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلَی خُصُوْصِیَّۃِ مَا خَالَفَہُ .ثُمَّ رَجَعْنَا اِلَی الْکَلَامِ ، بَیْنَ الَّذِیْنَ ذَہَبُوْا اِلٰی مَا کَانَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ حَدِیْثِ ابْنِ الْحَنِیْفَۃِ أَنَّہٗ کَانَ خَاصًّا لِعَلِی .فَکَانَ مِنْ حُجَّۃِ الْفِرْقَۃِ الَّذِیْنَ ذَہَبُوْا اِلٰی أَنَّ النَّہْیَ الْمَذْکُوْرَ فِیْ حَدِیْثِ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ وَجَابِرٍ اِنَّمَا ہُوَ عَلَی الْکُنْیَۃِ خَاصَّۃً ، کَانَ اسْمُ الْمُکْتَنَیْ بِہَا مُحَمَّدًا ، أَوْ لَمْ یَکُنْ ، مَا قَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .
٧٠٩١: سالم بن ابی الجعد نے حضرت جابر (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی کنیت پر کنیت سے منع فرمایا اور نام پر نام کی اجازت دی اور یہ کھلی متواتر روایات سے ثابت ہے۔ پس یہ مخالف روایت ایک خاص بات پر دلالت کرتی ہے۔ اب ہم ابن حنفیہ والی روایت کی طرف رجوع کرتے ہیں جس سے حضرت علی (رض) کی خصوصیت ثابت ہوتی ہے۔ فریق ثانی کا استدلال یہ ہے کہ وہ ممانعت جو روایت ابوہریرہ (رض) اور جابر (رض) میں مذکور ہے اس کا تعلق صرف کنیت سے ہے خواہ نام محمد ہو یا کچھ اور۔ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ بات منقول ہے۔ (ملاحظہ ہو)