۷۰۹۲: حَدَّثَنَا بَکَّارٌ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَاصِمٍ قَالَ : ثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ عَبْدُ الْکَرِیْمِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ عَمْرَۃَ عَنْ عَمِّہٖ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ : نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَنْ یُکْتَنَیْ بِکُنْیَتِہِ۔فَقَصَدَ بِالنَّہْیِ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ اِلَی الْکُنْیَۃِ خَاصَّۃً ، فَدَلَّ ذٰلِکَ أَنْ مَا قُصِدَ بِالنَّہٰی اِلَیْہِ فِی الْآثَارِ الَّتِیْ ذٰکَرْنَاہَا قَبْلَہٗ، ہِیَ الْکُنْیَۃُ أَیْضًا .وَقَدْ دَلَّ عَلٰی ذٰلِکَ أَیْضًا۔
٧٠٩٢: ابو عمرہ نے اپنے چچا سے انھوں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے منع فرمایا کہ آپ کی کنیت اختیار کی جائے۔ اس روایت میں نہی کا رخ کنیت کی طرف موڑا گیا ہے اس سے یہ دلالت ملی کہ جن آثار میں ممانعت موجود ہے اس سے مراد کنیت کی نفی ہے یہ روایت بھی اس کی دلیل ہے۔
تخریج : مسند احمد ٢؍٥١٠۔