۷۰۹۴: حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ زِیَادٍ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ حُصَیْنٍ عَنْ سَالِمِ ابْنِ أَبِی الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ : وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ غُلَامٌ ، فَسَمَّاہُ مُحَمَّدًا .فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَتِ الْأَنْصَارُ ، تَسَمَّوْا بِاسْمِی ، وَلَا تَکَنَّوْا بِکُنْیَتِی ، اِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ ، أَقْسِمُ بَیْنَکُمْ ، تَسَمَّوْا بِاسْمِیْ، وَلَا تَکَنَّوْا بِکُنْیَتِیْ۔
٧٠٩٤: سالم بن ابی الجعد نے حضرت جابر (رض) سے روایت کی ہے کہ ایک انصاری کے ہاں لڑکا پیدا ہوا تو انھوں نے اس کا نام محمد رکھا تو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم نے خوب کیا تم میرے نام پر نام رکھو مگر میری کنیت پر کنیت نہ رکھو میں بلاشبہ قاسم ہوں تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں۔ تم میرا نام تو رکھو مگر میری کنیت مت رکھو۔
تخریج : مسند احمد ٢؍٤٣٣‘ ٣؍٣٠١۔