۷۰۹۵: حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ قَالَ : ثَنَا أَسَدٌ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ ابْنِ أَبِی الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَسَمَّوْا بِاسْمِیْ وَلَا تَکَنَّوْا بِکُنْیَتِیْ فَاِنَّمَا جُعِلْت قَاسِمًا أَقْسِمُ بَیْنَکُمْ۔فَقَدْ أَخْبَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْمَعْنَی الَّذِیْ مِنْ أَجْلِہٖ نَہٰی أَنْ یُکْتَنٰی بِکُنْیَتِہٖ، وَاِنَّمَا ہُوَ لِأَنَّہٗ یَقْسِمُ بَیْنَہُمْ .فَثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّ قَصْدَہٗ، کَانَ فِی النَّہْیِ اِلَی الْکُنْیَۃِ ، دُوْنَ الْجَمْعِ بَیْنَہُمَا وَبَیْنَ الْاِسْمِ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا۔
٧٠٩٥: ابن ابی الجعد نے حضرت جابر (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میرے نام پر نام رکھو مگر میری کنیت پر کنیت نہ رکھو اللہ تعالیٰ نے مجھے قاسم بنایا ہے میں تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں۔ اس روایت میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس مقصد کی خبر دی ہے جس کی وجہ سے کنیت کی ممانعت ہے کہ آپ علم و رحمت کو تقسیم کرنے والے ہیں پس اس سے ثابت ہوا کہ آپ کا مقصود صرف کنیت سے منع کرنا ہے اس کی ممانعت نہیں کہ آپ کے نام و کنیت یا نام کو جمع کی ممانعت نہیں ہے۔ مندرجہ ذیل روایات اس کی دلیل ہیں۔
تخریج : بخاری فی العلم باب ١٣‘ الادب باب ١٠٩‘ مسلم فی الادب ٣؍٤‘ مسند احمد ٣؍٣٦٩‘ ٣٠٣؍٣١٣۔
دونوں کے جمع کی عدم ممانعت کے دلائل :