۷۰۹۶: بِمَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَنِیِّ بْنُ أَبِیْ عَقِیْلٍ وَحُسَیْنُ بْنُ نَصْرٍ قَالَا : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ زِیَادٍ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ حُمَیْدٍ الطَّوِیْلِ قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُوْلُ : کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی السُّوْقِ فَقَالَ لَہٗ رَجُلٌ یَا أَبَا الْقَاسِمِ .فَالْتَفَتَ اِلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ یَعْنِی : الرَّجُلَ اِنَّمَا أَدْعُو ذَاکَ .فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَسَمَّوْا بِاسْمِی ، وَلَا تَکَنَّوْا بِکُنْیَتِی۔
٧٠٩٦: حمید طویل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس (رض) کو کہتے سنا کہ آپ بازار میں تھے ایک آدمی نے آواز دی اے ابوالقاسم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی طرف متوجہ ہوئے تو اس آدمی نے کہا میں نے اس آدمی کو آواز دی ہے تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میرا نام تو رکھو مگر میری کنیت اختیار مت کرو۔
تخریج : بخاری فی البیوع باب ٤٩‘ والمناقب باب ٢٠۔