۷۱۰۴: مَا حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ یَقُوْلُ : وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ ، فَسَمَّاہُ الْقَاسِمَ فَقَالَ : لَا نُکَنِّیک أَبَا الْقَاسِمِ ، وَلَا نُنَعِّمُک عَیْنًا .فَأَتَی النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَذُکِرَ ذٰلِکَ لَہٗ فَقَلْتَ سَمِّ ابْنَکَ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ ۔ فَہٰذِہِ الْأَنْصَارُ قَدْ أَنْکَرَتْ عَلٰی ھٰذَا الرَّجُلِ أَنْ یُسَمِّیَ ابْنَہُ الْقَاسِمَ ، لِئَلَّا یُکْتَنٰی بِہٖ ، وَقَصَدُوْا بِالْکَرَاہَۃِ فِیْ ذٰلِکَ اِلَی الْکُنْیَۃِ خَاصَّۃً .ثُمَّ لَمْ یُنْکِرْ ذٰلِکَ عَلَیْہِمْ ، رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، لَمَّا بَلَغَہُ .فَدَلَّ ذٰلِکَ أَنَّ نَہْیَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّکَنِّیْ بِکُنْیَتِہٖ، یَتَسَمّٰی مَعَ ذٰلِکَ بِاسْمِہٖ، وَلَمْ یَتَسَمَّ بِہٖ .فَاِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ مَا یَدُلُّ عَلٰی کَرَاہَۃِ التَّسَمِّیْ بِالْقَاسِمِ .قِیْلَ لَہٗ : قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ ذٰلِکَ مَکْرُوْہًا ، کَمَا ذَکَرْت ، لِقَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ بَیْنَکُمْ۔وَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ کَرِہَ ذٰلِکَ لِأَنَّہُمْ کَانُوْا یُکَنُّوْنَ الْآبَائَ بِأَسْمَائِ الْأَبْنَائِ ، وَقَدْ کَانَ أَکْثَرُہُمْ لَا یُکْتَنَیْ حَتّٰی یُوْلَدَ لَہٗ، فَیُکْتَنَیْ بِاسْمِ ابْنِہٖ۔ وَالدَّلِیْلُ عَلٰی ذٰلِکَ۔
٧١٠٤: ابن منکدر نے حضرت جابر (رض) سے نقل کیا ہمارے ایک انصاری کے ہاں لڑکا ہوا۔ تو اس نے اس کا نام قاسم رکھا میں نے اس سے کہا ہم تمہیں ابوالقاسم کنیت نہ رکھنے دیں گے اور وہ نہ آنکھوں دیکھے تمہیں فوقیت دیں گے وہ شخص جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ بات ذکر کی تو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اپنے بیٹے کا نام عبدالرحمن رکھو۔ ملاحظہ فرمائیں کہ انصار نے اس آدمی کے قاسم نام رکھنے پر اعتراض کیا تاکہ اس کی کنیت ابوالقاسم نہ ہو اور ان کا مقصود بھی یہی تھا کہ آپ کی کنیت وہ اختیار نہ کرے پھر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب بات پہنچی تو آپ نے ان کی اس بات پر اعتراض نہ کیا اس سے یہ دلالت مل گئی کہ آپ کی طرف سے ممانعت کنیت کے ساتھ خاص تھی خواہ وہ آپ کے نام پر نام رکھا ہو یا نہ رکھا ہو۔ یہ روایت تو قاسم نام رکھنے کی کراہت کو ظاہر کر رہی ہے (آپ کا مدعا ثابت نہیں کرتی) : یہ ممکن ہے کہ نام رکھنا بھی اسی طرح مکروہ ہو جیسا کہ تم نے ذکر کیا کیونکہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں قاسم ہوں تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ ناپسند کرنے کی وجہ ی ہو کہ وہ لوگ بیٹوں کے نام پر کنیت اختیار کرتے تھے اور ان میں سے اکثریت بچے کے پیدا ہونے تک کنیت کو اختیار نہ کرتے جب وہ پیدا ہوجاتا تو پھر بیٹے کے نام کی مناسبت سے کنیت رکھتے تھے۔ اس کی دلیل یہ حمزہ بن صہیب والی روایت ہے۔
تخریج : بخاری فی الادب باب ١٠٥؍١٠٤‘ مسلم فی الادب ٧۔