۷۱۰۵: مَا حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ قَالَ : ثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرٍوْ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیْلٍ عَنْ حَمْزَۃَ بْنِ صُہَیْبٍ عَنْ أَبِیْہَ صُہَیْبٍ قَالَ : قَالَ لِیْ عُمَرُ نِعْمَ الرَّجُلُ أَنْتَ یَا صُہَیْبُ لَوْلَا خِصَالٌ فِیْکَ ثَلَاثٌ .قُلْتُ : وَمَا ہِیَ یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ ؟ قَالَ : تَکَنَّیْتُ وَلَمْ یُوْلَدْ لَکَ، وَفِیْکَ سَرَفٌ فِی الطَّعَامِ ، وَانْتَمَیْتُ اِلَی الْعَرَبِ ، وَلَسْتُ مِنْہُمْ .قُلْتُ : أَمَّا قَوْلُکَ تَکَنَّیْتُ وَلَمْ یُوْلَدْ لَک فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَنَّانِیْ أَبَا یَحْیَی .وَأَمَّا قَوْلُک انْتَمَیْتُ اِلَی الْعَرَبِ وَلَسْتُ مِنْہُمْ فَاِنِّیْ رَجُلٌ مِنْ بَنِی النَّمِرِ بْنِ قَاسِطٍ ، سَبَتْنَا الرُّوْمُ مِنَ الطَّائِفِ ، بَعْدَمَا عَقَلْتُ أَہْلِیْ وَنَسَبِی .وَأَمَّا قَوْلُک فِیْکَ سَرَفٌ فِی الطَّعَامِ فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ خِیَارُکُمْ مَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ فَہٰذَا عُمَرُ قَدْ أَنْکَرَ عَلَی صُہَیْبٍ أَنْ یَتَکَنَّیْ قَبْلَ أَنْ یُوْلَدَ لَہٗ، فَدَلَّ ذٰلِکَ أَنَّہُمْ ، أَوْ أَکْثَرَہُمْ ، کَانُوْا لَا یَتَکَنَّوْنَ ، حَتّٰی یُوْلَدَ لَہُمْ ، فَیَکْتَنُوْنَ بِأَبْنَائِہِمْ .فَلَمَّا وُلِدَ لِذٰلِکَ الْأَنْصَارِیِّ ابْنٌ ، فَسَمَّی الْقَاسِمَ ، أَنْکَرَتِ الْأَنْصَارُ ذٰلِکَ عَلَیْہٖ، لِأَنَّہٗ اِنَّمَا سَمّٰی بِہٖ ، لِیُکْنٰی بِہٖ فَأَبَوْا ذٰلِکَ وَأَنْکَرُوْھُ عَلَیْہٖ، فَأَثْنَیْ عَلَیْہِمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، لِذٰلِکَ .وَقَدْ دَلَّ عَلٰی ذٰلِکَ أَیْضًا۔
٧١٠٥: حمزہ بن صہیب نے اپنے والد صہیب سے روایت کی ہے کہ مجھے حضرت عمر (رض) کہنے لگے۔ اے صہیب تو آدمی تو خوب ہے اگر تجھ میں یہ تین باتیں نہ ہوتیں میں نے کہا۔ اے امیرالمومنین وہ کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا :
آپ نے ولادت ولد سے پہلے اپنی کنیت رکھ لی۔ ! تم کھانے میں اسراف کرتے ہو۔ " تم اپنی نسبت عرب کی طرف کرتے ہو حالانکہ تم عرب نہیں ہو۔ حضرت صہیب کہتے ہیں میں نے کہا آپ کا یہ قول کہ لڑکا پیدا ہونے کے بغیر کنیت رکھ لی تو اس کا جواب یہ ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری کنیت ابو یحییٰ رکھی۔ رہی دوسری بات کہ میں نے اپنی نسبت عرب کی طرف کی ہے حالانکہ میں ان میں سے نہیں ہوں تو اس کا جواب یہ ہے کہ میں بنی نمر بن قاسط کا فرد ہوں میں اس وقت اپنے خاندان و نسب کی پہچان کرنے لگا تھا کہ طائف سے رومیوں نے ہمیں قیدی بنا لیا۔ " رہی تمہاری تیسری بات کہ تم کھانے میں اسراف کرتے ہو تو اس کا جواب یہ ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے تم میں سے بہتر وہ ہیں جو دوسروں کو کھانا کھلائیں۔ یہ حضرت عمر (رض) ہیں جو صہیب (رض) کے متعلق اس بات کا انکار کر رہے ہیں کہ وہ بیٹا پیدا ہونے سے پہلے اپنی کنیت اختیار کریں اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ وہ تمام یا ان کی اکثریت اس وقت تک کنیت اختیار نہ کرتی جب تک کہ ان کے ہاں اولاد نہ ہوتی پھر وہ اپنے بیٹوں سے کنیت اختیار کرتے۔ پھر جب اس انصاری کے بیٹا پیدا ہوا اور اس نے اس کا نام قاسم رکھا تو انصار نے ان کی اس بات کو ناپسند کیا کیونکہ اس کے نام رکھنے کا مقصود کنیت اختیار کرنا تھا اس لیے انھوں نے اس پر اعتراض کیا تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے اس عمل کی تعریف فرمائی اور یہ روایت اس پر دلالت کرتی ہے۔
تخریج : مسند احمد ٦؍١٦۔