hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 7110

.

الطحاوي

7110
Al Tahawi
۷۱۰۷: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ رُوْمِیْ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ قَالَ : ثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مَرَّ بِمَجْلِسٍ فِیْہِ أَخْلَاطٌ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ، وَالْیَہُوْدِ ، وَالْمُشْرِکِیْنَ مِنْ عَبَدَۃِ الْأَوْثَانِ ، فَسَلَّمَ عَلَیْہِمْ۔قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّہٗ لَا بَأْسَ أَنْ یُبْتَدَأَ أَہْلُ الْکُفْرِ بِالسَّلَامِ ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَکَرِہُوْا أَنْ یَبْتَدِئُوْا بِالسَّلَامِ ، وَقَالُوْا لَا بَأْسَ بِأَنْ یُرَدَّ عَلَیْہِمْ اِذَا سَلَّمُوْا .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ۔
٧١٠٧: عروہ نے حضرت اسامہ بن زید (رض) سے روایت کیا ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گزر ایسی مجلس کے پاس سے ہوا جہاں یہودی ‘ مسلمان اور مشرک ملے جلے بیٹھے تھے تو آپ نے ان کو السلام علیکم کہا۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : اس طرف بعض لوگ گئے ہیں کہ اہل کفر کو ابتداء سلام میں کوئی حرج نہیں۔ اور انھوں نے اس روایت سے استدلال کیا ہے۔ فریق ثانی کا مؤقف : ابتداء سلام مکروہ ہے البتہ سلام کا جواب دینے میں حرج نہیں۔ ان کی دلیل یہ روایات ہیں۔
تخریج : بخاری فی تفسیر سورة ٣‘ باب ١٥‘ المرضیٰ باب ١٥‘ والاستیذان باب ٢٠‘ والادب باب ١١٥‘ و مسلم فی الجہاد ١١٦‘ مسند احمد ٥؍٢٠٣۔
خلاصہ الزام :
کفار کو سلام میں ابتداء کرنے میں کوئی حرج نہیں اس قول کو بعض لوگوں نے اختیار کیا۔
فریق ثانی کا مؤقف : سلام میں ابتداء مکروہ ہے ان کے سلام کرنے پر فقط وعلیکم سے جواب دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔