hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 7109

.

الطحاوي

7109
Al Tahawi
۷۱۰۶: مَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ ثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : ثَنَا ابْنُ لَہِیْعَۃَ عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ أَنَّ أَبَا الزُّبَیْرِ الْمَکِّیَّ أَخْبَرَہٗ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ : وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ ، فَسَمَّاہُ الْقَاسِمَ وَتَکَنَّیْ بِہٖ ، فَأَبَتِ الْأَنْصَارُ أَنْ تُکَنِّیَہٗ بِذٰلِکَ .فَبَلَغَ ذٰلِکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحْسَنَتِ الْأَنْصَارُ ، تَسَمَّوْا بِاسْمِی ، وَلَا تَکَنَّوْا بِکُنْیَتِی۔فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ مَا قَدْ دَلَّ عَلٰی أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، اِنَّمَا حَوَّلَ اسْمَ ذٰلِکَ الصَّبِیِّ ، لِأَنَّ أَبَاہُ تَکَنَّیْ بِہٖ ، فَحَوَّلَہٗ اِلَی اسْمٍ یَجُوْزُ لِأَبِیْہَ التَّکَنِّیْ بِہٖ .وَفِیْہِ مَا یَدُلُّ عَلٰی أَنَّ النَّہْیَ ، اِنَّمَا قُصِدَ بِہٖ اِلَی الْکُنْیَۃِ خَاصَّۃً ، لَا اِلَی الْجَمْعِ بَیْنَہَا وَبَیْنَ الْاِسْمِ ، وَاللّٰہُ تَعَالٰی أَعْلَمُ .
٧١٠٦: ابوالزبیر مکی نے حضرت جابر (رض) سے روایت کی ہے ہمارے انصار میں ایک آدمی کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو اس نے اس کا نام قاسم رکھا تو انصار (رض) نے اس کا انکار کیا کہ وہ اس نام سے کنیت اپنائے اور یہ بات جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہنچی تو آپ نے فرمایا انصار نے خوب کیا ہے پس تم میرے نام پر نام تو رکھ سکتے ہو مگر میری کنیت اختیار مت کرو۔ ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بچے کا نام اس لیے بدل دیا کیونکہ اس کے باپ نے اس کے ساتھ کنیت اختیار کرنا تھی (جو کہ ناجائز میں داخل ہوجاتی تھی) پس آپ نے اس کا ایسا نام رکھ دیا کہ اس کے والد کو کنیت رکھنا درست و جائز ہوجائے اس میں اس بات کی دلالت بھی ملتی ہے کہ آپ کی ممانعت میں صرف کنیت کا قصد تھا کنیت اور نام کو جمع کرنے کا قصد نہ تھا۔