۷۱۱۶: حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَاصِمٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْحَمِیدِ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ یَزِیْدُ بْنُ أَبِیْ حَبِیْبٍ فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔فَفِیْ ہٰذِہِ الْآثَارِ، النَّہْیُ عَنْ اِبْتِدَائِ الْیَہُوْدِ وَالنَّصَارٰی بِالسَّلَامِ مِنْ قَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .وَفِی الْحَدِیْثِ الْأَوَّلِ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَلَّمَ عَلَیْہِمْ فِیْ قَوْلِ أُسَامَۃَ .فَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَرَادَ بِسَلَامِہٖ، مَنْ کَانَ فِیْہِمْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ، وَلَمْ یُرِدْ الْیَہُوْدَ ، وَلَا النَّصَارٰی ، وَلَا عَبَدَۃَ الْأَوْثَانِ ، حَتّٰیْ لَا تَتَضَادَّ ہٰذِہِ الْآثَارُ ، وَہٰذَا الَّذِیْ وَصَفْنَا جَائِزٌ .فَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یُسَلِّمَ رَجُلٌ عَلٰی جَمَاعَۃٍ وَہُوَ یُرِیْدُ بَعْضَہُمْ ، وَقَدْ یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُوْنَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، سَلَّمَ عَلَیْہِمْ أَجْمَعِیْنَ لِأَنَّ ذٰلِکَ کَانَ فِیْ وَقْتٍ قَدْ أُمِرَ فِیْہِ أَنْ لَا یُجَادِلَہُمْ اِلَّا بِاَلَّتِیْ ھِیَ أَحْسَنُ ، فَکَانَ السَّلَامُ مِنْ ذٰلِکَ ثُمَّ أُمِرَ بِقِتَالِہِمْ وَمُنَابَذَتِہِمْ ، فَنَسَخَ ذٰلِکَ مَا کَانَ تَقَدَّمَ مِنْ سَلَامِہٖ عَلَیْہِمْ .فَنَظَرْنَا فِیْ ذٰلِکَ۔
٧١١٦: عبدالحمید بن جعفر نے یزید بن ابی حبیب سے پھر انھوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ ان آثار میں یہود و نصاریٰ کو سلام میں ابتداء کرنے سے ممانعت پائی جاتی ہے اور روایت اول میں جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بقول اسامہ یہود کو سلام کیا۔ ان روایات میں یہ احتمالات ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے سلام سے ان لوگوں کا ارادہ فرمایا ہو جو وہاں مسلمان موجود تھے اور مشرکین یہود و نصاریٰ کا ارادہ ہی نہ فرمایا ہو۔ تاکہ ان آثار میں باہمی تضاد نہ رہے اور تاویل بھی درست ہوجائے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آدمی پوری جماعت کو سلام کرے اور مراد بعض ہوں۔ ممکن ہے کہ آپ نے سب کو سلام کیا ہو۔ کیونکہ اس وقت تک ان سے احسن طریق سے ان کے ساتھ مجادلہ کا حکم تھا قتال اور علیحدگی کا حکم بعد میں وارد ہوا۔ اس سے آپ کے سلام والی روایات منسوخ ہوگئیں۔
ایک احتمال کی تعیین :