hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 7130

.

الطحاوي

7130
Al Tahawi
۷۱۲۷: حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ : ثَنَا مَالِکٌ وَصَخْرُ بْنُ جُوَیْرِیَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مِثْلَہٗ۔قَالُوْا : فَبِہٰذِہِ الْآثَارِ نَقُوْلُ ، وَاِلَیْہَا نَذْہَبُ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : بَلِ التَّکْبِیْرُ فِی الْعِیْدَیْنِ ، تِسْعُ تَکْبِیْرَاتٍ ، خَمْسًا فِی الْأُوْلٰی، وَأَرْبَعًا فِی الْآخِرَۃِ وَیُوَالِیْ بَیْنَ الْقِرَائَ تَیْنِ .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ عَلٰی أَہْلِ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی فِیْمَا احْتَجُّوْا بِہٖ عَلَیْہِمْ مِنَ الْآثَارِ ، الَّتِیْ ذٰکَرْنَا ، أَنَّ حَدِیْثَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ وَاِنَّمَا یَدُوْرُ عَلَی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ وَلَیْسَ عِنْدَہُمْ ، بِاَلَّذِیْ یُحْتَجُّ بِرِوَایَتِہٖ۔ ثُمَّ ہُوَ أَیْضًا عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہَ عَنْ جَدِّہٖ، وَذٰلِکَ عِنْدَہُمْ ، أَیْضًا لَیْسَ بِسَمَاعٍ .فَکَیْفَ یَحْتَجُّوْنَ عَلَی خَصْمِہِمْ بِمَا لَوْ احْتَجَّ بِہٖ عَلَیْہِمْ لَمْ یُسَوِّغُوْھُ ذٰلِکَ ؟ وَأَمَّا حَدِیْثُ ابْنِ لَہِیْعَۃَ فَبَیِّنُ الْاِضْطِرَابِ ، مَرَّۃً یُحَدِّثُ عَنْ عُقَیْلٍ وَمَرَّۃً عَنْ خَالِدِ بْنِ یَزِیْدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ وَمَرَّۃً عَنْ خَالِدِ بْنِ یَزِیْدَ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ وَمَرَّۃً عَنْ أَبِی الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا ، وَأَبِیْ وَاقِدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَذَکَرْنَا ذٰلِکَ کُلَّہٗ فِیْ ہٰذَا الْبَابِ .وَبَعْدُ فَمَذْہَبُہُمْ فِی ابْنِ لَہِیْعَۃَ مَا قَدْ شَرَحْنَاہُ فِیْ غَیْرِ مَوْضِعٍ مِنْ ہٰذَا الْکِتَابِ .وَأَمَّا حَدِیْثُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا ، فَاِنَّمَا یَدُوْرُ عَلٰی مَا رَوَاہٗ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَامِرٍ وَہُوَ ، عِنْدَہُمْ ضَعِیْفٌ .وَاِنَّمَا أَصْلُ ہٰذَا الْحَدِیْثِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا عَنْ نَفْسِہٖ۔
٧١٢٧: نافع نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔ فریق اوّل کہتا ہے کہ ان آثار میں بارہ تکبیرات کا تذکرہ ہے ہم یہی کہتے ہیں اور یہی ہمارا قول ہے۔ فریق ثانی کا مؤقف ہے کہ عیدین میں نو تکبیرات ہیں۔ پانچ پہلی رکعت میں اور چار دوسری رکعت میں اور دونوں قراءتوں کو اکٹھا کرے۔ فریق اوّل کی دلیل کا جواب یہ ہے کہ آپ نے جو روایت ذکر کی ہے اس کا مدار عبداللہ بن عبدالرحمن پر ہے اور وہ خود فریق اوّل کے ہاں بھی ایسا راوی نہیں کہ جس کی روایت سے استدلال کیا جاسکے۔ دوسرا عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ میں دادا سے اس کا سماع ثابت نہیں۔ پھر وہ اس سے اپنے مخالف کے خلاف کس طرح بطور دلیل لاتے جبکہ اگر اسی سند کی روایت ان کے خلاف حجت میں پیش ہو تو قطعاً قبول نہ کریں۔ دوسری دلیل روایت ابن لہیعہ کا جواب یہ ہے کہ اس روایت میں واضح طور پر اضطراب ہے کیونکہ وہ کبھی تو عقیل عن خالد ابن یزید عن ابن شہاب روایت کرتا ہے۔ ! اور کبھی خالد بن یزید عن عقیل عن ابن شہاب روایت کرتا ہے۔ " اور کبھی عن ابن الاسود عن عروہ عن عائشہ (رض) و ابو واقد روایت کرتا ہے اوپر ہم روایات کے سارے طرق ذکر کر آئے ہیں۔ خود ابن لہیعہ جس درجہ کا راوی ہے وہ ہم اسی کتاب میں بیان کرچکے (اس سے یہ ثابت ہوا کہ اضطراب کی وجہ سے روایت قابل استدلال نہیں) روایت ابن عمر (رض) کا جواب یہ ہے کہ اس روایت کا سارا دارومدار عبداللہ بن عامر پر ہے اور وہ خود فریق اوّل کے نزدیک نہایت ضعیف راوی ہے باقی اس روایت کی اصل یہ ہے کہ یہ عبداللہ ابن عمر (رض) پر موقوف ہے چنانچہ ملاحظہ ہو۔
تشریح : فریق اوّل کہتا ہے کہ ان آثار میں بارہ تکبیرات کا تذکرہ ہے ہم یہی کہتے ہیں اور یہی ہمارا قول ہے۔