۷۱۲۸: حَدَّثَنَا یَحْیٰی بْنُ عُثْمَانَ قَالَ : ثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ قَالَ : حَدَّثَنِیْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ نَافِعِ بْنِ أَبِیْ نُعَیْمٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا ، مِثْلَہٗ وَلَمْ یَرْفَعْہٗ، فَہٰذَا ہُوَ أَصْلُ الْحَدِیْثِ .وَأَمَّا حَدِیْثُ کَثِیْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ فَاِنَّمَا ہُوَ عَنْ کِتَابِہٖ اِلَی ابْنِ وَہْبٍ وَہُمْ لَا یَجْعَلُوْنَ مَا سَمِعَ مِنْہُ حُجَّۃً ، فَکَیْفَ مَا لَمْ یَسْمَعْ مِنْہُ .فَلَمَّا انْتَفٰی أَنْ یَکُوْنَ فِیْ ہٰذِہِ الْآثَارِ ، شَیْئٌ یَدُلُّ عَلٰی کَیْفِیَّۃِ التَّکْبِیْرِ فِی الْعِیْدَیْنِ ، لِمَا بَیَّنَّا ، مِنْ وَہَائِہَا ، وَسُقُوْطِہَا نَظَرْنَا فِیْ غَیْرِہَا ، ہَلْ فِیْہِ مَا یَدُلُّ عَلٰی شَیْئٍ مِنْ ذٰلِکَ ؟ .
٧١٢٨: نافع ابن ابی نعیم نے نافع سے انھوں نے ابن عمر (رض) سے اسی طرح روایت کی ہے اور اس کو مرفوع قرار نہیں دیا۔ روایت کثیر بن عبداللہ : وہ درحقیقت ابن وہب کی طرف لکھا ہوا ان کا خط ہے اور فریق اوّل ابن وہب کی اس طرح سنی ہوئی روایت کو حجت قرار نہیں دیتے جو روایت سرے سے سنی ہی نہیں وہ کیسے حجت ہو۔ جب ان آثار کی حیثیت معلوم ہوگئی تو اس سے ثابت ہوا کہ ان میں سے کوئی چیز بھی عیدین کی تکبیرات کی کیفیت پر دلالت کے قابل نہیں اب ان کے علاوہ روایات کو ہم دیکھتے ہیں کہ آیا ان میں کوئی ایسی چیز پائی جاتی ہے جو اس کیفیت پر دلالت کرے چنانچہ یہ قاسم ابو عبدالرحمن کی روایت ہے۔