۷۱۴۰: حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ زِیَادٍ قَالَ : ثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ عَنْ أَبِیْ اِسْحَاقَ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قَیْسٍ عَنْ أَبِیْہَ أَنَّ سَعِیْدَ بْنَ الْعَاصِ دَعَاہُمْ یَوْمَ عِیْدٍ ، فَدَعَا الْأَشْعَرِیَّ وَابْنَ مَسْعُوْدٍ وَحُذَیْفَۃَ بْنَ الْیَمَانِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ .فَقَالَ : اِنَّ الْیَوْمَ عِیْدُکُمْ ، فَکَیْفَ أُصَلِّیْ؟ قَالَ حُذَیْفَۃُ : سَلِ الْأَشْعَرِیَّ وَقَالَ الْأَشْعَرِیُّ : سَلْ عَبْدَ اللّٰہِ .فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ : تُکَبِّرُ ، وَذَکَرَ الْحَدِیْثَ ، وَہُوَ یُکَبِّرُ تَکْبِیْرَۃً ، وَیَفْتَتِحُ بِہَا الصَّلَاۃَ ثُمَّ یُکَبِّرُ بَعْدَہَا ثَلَاثًا ، ثُمَّ یَقْرَأُ ثُمَّ یُکَبِّرُ تَکْبِیْرَۃً یَرْکَعُ بِہَا ، ثُمَّ یَسْجُدُ ، ثُمَّ یَقُوْمُ فَیَقْرَأُ ، ثُمَّ یُکَبِّرُ ثَلَاثًا ، ثُمَّ یُکَبِّرُ تَکْبِیْرَۃً ، یَرْکَعُ بِہَا .
٧١٤٠: ابراہیم بن عبداللہ بن قیس کہتے ہیں کہ میرے والد نے بیان کیا کہ ہمیں حضرت سعید بن العاص (رض) نے عید کے دن بلایا اور ابو موسیٰ اشعری اور ابن مسعود اور حذیفہ بن یمان (رض) کو بلایا اور کہنے لگے یہ تمہاری عید کا دن ہے میں کس طرح نماز پڑھاؤں۔ حذیفہ کہنے لگے اشعری کی طرح پڑھاؤ۔ اشعری نے کہا تم عبداللہ (رض) سے دریافت کرلو۔ پھر عبداللہ کہنے لگے تکبیر کہو۔ اور روایت ذکر کی وہ ایک تکبیر کہہ کر نماز شروع کرتے پھر اس کے بعد تین تکبیرات کہتے پھر قراءت کرتے پھر رکوع کی تکبیر کہتے پھر سجدہ کرتے پھر (دوسری رکعت کے لئے) کھڑے ہوجاتے پھر قراءت کر کے پھر تین تکبیرات کہتے پھر چوتھی تکبیر کہتے جس سے رکوع کرتے۔