۷۱۳۹: مَا حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا رَوْحٌ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ عِکْرَمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّہٗ قَالَ : مَنْ شَائَ کَبَّرَ سَبْعًا ، وَمَنْ شَائَ کَبَّرَ تِسْعًا ، وَاِحْدٰی عَشْرَۃَ وَثَلَاثَ عَشْرَۃَ۔فَہٰذَا ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَدْ رَوٰی عَنْہُ عِکْرِمَۃُ مَا ذَکَرْنَا ، فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی أَنَّہٗ کَبَّرَ عَلٰی مَا رُوِیَ عَنْہُ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ وَعَطَائٍ وَلَہٗ أَنْ یُکَبِّرَ عَلٰی مَا رَوَاہٗ عَنْہُ، الْفَرِیْقُ الْآخَرُ .وَقَدْ اخْتَلَفَا عَنْہُ فِیْ مَوْضِعِ الْقِرَائَ ۃِ فَرَوٰی عَنْہُ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا مَا قَدْ ذَکَرْنَاہُ فِیْ حَدِیْثِہٖ .فَاحْتَمَلَ أَنْ یَکُوْنَ کَانَ الْحُکْمُ فِیْ ذٰلِکَ عِنْدَہٗ، أَنْ یَفْعَلَ مِنْ ہٰذَیْنِ مَا شَائَ .وَاحْتَمَلَ أَنْ یَکُوْنَ کَانَ الْحُکْمُ عِنْدَہٗ فِیْمَنْ کَبَّرَ تِسْعًا أَنْ یُوَالِیَ بَیْنَ الْقِرَائَ تَیْنِ ، وَفِیْمَنْ کَبَّرَ ثَلَاثَ عَشْرَۃَ أَنْ یُخَالِفَ بَیْنَ الْقِرَائَ تَیْنِ .وَقَدْ رُوِیَ خِلَافُ ذٰلِکَ أَیْضًا عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ .
٧١٣٩: عکرمہ نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے جو آدمی چاہے سات تکبیریں کہے جو چاہے نو تکبیرات کہے اور جو چاہے گیارہ اور جو چاہے تیرہ تکبیرات کہے۔ یہ ابن عباس (رض) ہیں جن سے عکرمہ نے یہ روایت کی۔ جو یہ دلالت کر رہی ہے کہ آپ نے وہ سب ہی تکبیریں کہی ہیں جو آپ سے عبداللہ بن حارث اور عطاء نے نقل کی ہیں اب اس کے لیے جائز ہے کہ جس طرح وہ چاہے اپنی روایت کردہ تکبیرات کو کہہ لے یا دوسرے فریق کی اختیار کرلے حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) سے قراءت کے مقام میں دونوں روایتوں میں اختلاف ہے جیسا کہ ہم ان کی روایت ذکر کرچکے اس میں بھی دو احتمال ہیں۔ ممکن ہے کہ ان کے ہاں قراءت میں بھی اسی طرح کا حکم ہو جیسا تکبیرات کہ جس طرح چاہے عمل کرلے۔ کہ ان کے ہاں نو تکبیرات کہنے والا مسلسل قراءت کرے اور تیرہ تکبیریں کہنے والا الگ الگ قراءت کرے۔ حضرت ابن مسعود (رض) سے اس کے خلاف روایت منقول ہے (ملاحظہ ہو)