۷۱۴۲: حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا ہِشَامُ بْنُ أَبِیْ عَبْدِ اللّٰہِ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ قَیْسٍ قَالَ : خَرَجَ الْوَلِیْدُ بْنُ عُقْبَۃَ بْنُ أَبِیْ مُعَیْطٍ عَلٰی بْنِ مَسْعُوْدٍ وَحُذَیْفَۃَ وَالْأَشْعَرِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ فَقَالَ : اِنَّ الْعِیْدَ غَدًا ، فَکَیْفَ التَّکْبِیْرُ ؟ .فَقَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَذَکَرَ نَحْوَ ذٰلِکَ وَزَادَ فَقَالَ الْأَشْعَرِیُّ وَحُذَیْفَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا : صَدَقَ أَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ۔فَہٰذَا حُذَیْفَۃُ وَأَبُوْ مُوْسٰی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَدْ وَافَقَا عَبْدَ اللّٰہِ عَلٰی مَا ذَہَبَ اِلَیْہِ مِنْ التَّکْبِیْرِ ، وَکَیْفِیَّۃِ صَلَاۃِ الْعِیْدِ .وَقَدْ رُوِیَ خِلَافُ ذٰلِکَ أَیْضًا عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ .
٧١٤٢: علقمہ بن قیس کہتے ہیں کہ ولید بن عقبہ بن ابی معبط نکل کر حضرت ابن مسعود ‘ حذیفہ ‘ اشعری (رض) کے ہاں گئے پھر کہنے لگے کل عید ہے تکبیرات کی کیا کیفیت ہوگی۔ تو ابن مسعود (رض) کہنے لگ پھر انھوں نے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے اور اس روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ اشعری اور حذیفہ (رض) کہنے لگے کہ ابو عبدالرحمن نے سچ کہا ہے۔ یہ حذیفہ ‘ ابو موسیٰ اشعری (رض) ہیں جو عبداللہ بن مسعود (رض) کے ساتھ تکبیر اور نماز عید کی کیفیت میں اتفاق کر رہے ہیں۔ عبداللہ بن زبیر (رض) کی روایت اس کے خلاف ہے۔ (ملاحظہ ہو)