۷۱۴۳: حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا رَوْحٌ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ : ثَنَا یُوْسُفُ بْنُ مَاہَکَ أَخْبَرَنِیْ أَنَّ ابْنَ الزُّبَیْرِ لَمْ یَکُنْ یُکَبِّرُ اِلَّا أَرْبَعًا ، سِوٰی تَکْبِیْرَتَیْنِ لِلرَّکْعَتَیْنِ ، سَمْعُ ذٰلِکَ مِنْہُ زَعْمٌ .فَقَدْ یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُوْنَ الْأَرْبَعُ الَّتِیْ کَانَ یُکَبِّرہُنَّ فِی الرَّکْعَۃِ الْأُوْلٰی سِوَی تَکْبِیْرَۃِ الْاِفْتِتَاحِ ، فَیَکُوْنُ مَا فُعِلَ مِنْ ذٰلِکَ مُوَافِقًا ، لِمَا ذَہَبَ اِلَیْہِ ابْنُ مَسْعُوْدٍ ، وَحُذَیْفَۃَ ، وَأَبُوْ مُوْسَیْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ ، وَیُحْتَمَلُ أَنْ تَکُوْنَ تَکْبِیْرَۃُ الْاِفْتِتَاحِ دَاخِلَۃً فِیْہِنَّ فَیَکُوْنُ ذٰلِکَ مُخَالِفًا لِمَذْہَبِہِمْ .وَأَوْلٰی بِنَا أَنْ نَحْمِلَہٗ عَلٰی مَا وَافَقَ قَوْلَہُمْ ، لَا عَلٰی مَا خَالَفَہٗ. وَقَدْ رُوِیَ خِلَافُ ذٰلِکَ أَیْضًا ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ.
٧١٤٣: یوسف بن ماھک کہتے ہیں کہ ابن الزبیر (رض) چار تکبیرات کہا کرتے تھے جو دونوں رکوعوں کی تکبیرات سے الگ ہوتیں ان سے یہ بات زعیم نے سنی۔ اس روایت میں دو احتمال ہیں۔ پہلی رکعت کی چار تکبیرات سوائے تکبیر تحریمہ کے مانیں تو اس صورت میں یہ روایت ابن مسعود ‘ حذیفہ ‘ ابو موسیٰ (رض) کی روایت سے موافق ہوجائے گی۔ ! اور اگر تکبیر تحریمہ کو ان میں داخل مانیں تو پھر یہ ان کے مذہب کے مخالف ٹھہرے گی ہمارے لیے بہتر یہ ہے کہ اس کو موافقت والے قول پر محمول کریں نہ کہ عدم موافقت والے پر۔ حضرت انس (رض) سے بھی اس کے خلاف روایت وارد ہے۔