hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 715

.

الطحاوي

715
Al Tahawi
۷۱۵ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ، قَالَ : ثَنَا جَنْدَلُ بْنُ وَالِقٍ، قَالَ : ثَنَا حَفْصٌ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ اِبْرَاہِیْمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ عَنْ (سُلَیْمَانَ، قَالَ : نُہِیْنَا أَنْ نَکْتَفِیَ بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَۃِ أَحْجَارٍ) .فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی أَنَّ الْاِسْتِجْمَارَ لَا یُجْزِئُ بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَۃِ أَحْجَارٍ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِمَا ذَکَرْنَا مِنْ ھٰذِہِ الْآثَارِ .ؓوَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : مَا اسْتَجْمَرَ بِہٖ مِنْہَا فَأَنْقٰی بِہِ الْأَذٰی، ثَلَاثَۃً کَانَتْ أَوْ أَکْثَرَ مِنْہَا أَوْ أَقَلَّ، وِتْرًا کَانَتْ أَوْ غَیْرَ وِتْرٍ، کَانَ ذٰلِکَ طُہْرَہٗ .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ أَنَّ أَمْرَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فِیْ ھٰذَا بِالْوِتْرِ، یَحْتَمِلُ أَنْ یَکُوْنَ ذٰلِکَ عَلَی الْاِسْتِحْبَابِ مِنْہُ لِلْوِتْرِ، لَا عَلٰی أَنَّ مَا کَانَ غَیْرَ وِتْرٍ لَا یُطَہِّرُ .وَیَحْتَمِلُ أَنْ یَکُوْنَ أَرَادَ بِہِ التَّوْقِیْتَ الَّذِیْ لَا یُطَہِّرُ مَا ہُوَ أَقَلُّ مِنْہٗ .فَنَظَرْنَا فِیْ ذٰلِکَ، ہَلْ نَجِدُ فِیْہِ مَا یَدُلُّ عَلٰی شَیْئٍ مِنْ ذٰلِکَ؟۔
٧١٥: عبدالرحمن بن یزید نے کہا کہ سلمان (رض) نے فرمایا ہمیں اس سے منع کیا گیا کہ ہم تین سے کم ڈھیلوں پر اکتفاء کریں۔ کچھ علماء اس طرف گئے ہیں تین پتھروں سے کم تعداد کے ساتھ استنجاء کافی نہیں ‘ انھوں نے اس سلسلہ میں ان آثار سے خصوصاً استدلال کیا ہے۔ مگر علماء کی دوسری جماعت کہتی ہے کہ جس قدر پتھروں سے وہ استنجاء کرے ان سے ازالہ نجاست ہو خواہ تین ہوں یا زیادہ یا کم طاق ہو یا جفت اس سے طہارت حاصل ہوجائے گی اور اس سلسلہ میں ان کی دلیل یہ بھی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس میں طاق کا حکم فرمایا اور اس میں احتمال یہ ہے کہ طاق کا عدد بطور استحباب ہو یہ نہیں کہ اگر طاق عدد نہ ہوں تو اس سے طہارت حاصل نہ ہوگی اور یہ بھی احتمال ہے کہ آپ کا اس تعداد کو مقرر فرمانا اس لیے ہو کہ اس سے کم میں طہارت حاصل نہیں ہوتی۔ پس ہم نے اس میں غور و فکر کی کہ آیا کوئی روایت ایسی موجود ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہو تو یونس (رح) کی یہ روایت مل گئی ‘ ملاحظہ ہو۔
تخریج : مسلم فی الطھارۃ ٥٧۔
حاصل روایات : ان تیرہ روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ استنجاء کے لیے تین پتھر استعمال کرنے ضروری ہیں کم نہیں ہوسکتے۔
فریق ثانی کا مؤقف :
جو آدمی استنجاء کرے اس کے لیے اصل مقصود تو مقام ایذاء کا صاف کرنا ہے وہ تین ڈھیلوں یا اس سے کم و بیش سے دور ہو خواہ وہ طاق ہوں یا جفت اس سے طہارت حاصل ہوجائے گی۔
فریق اوّل کو جواب :
روایات بالا میں طاق عدد کا حکم اس بات کا احتمال رکھتا ہے کہ طاق عدد میں استحباب مراد ہو یہ مقصد نہیں کہ اگر عدد طاق نہ ہوں تو پھر مقام ایذاء صاف نہ ہوگا۔
دوسرا احتمال وہی ہے کہ تین کی تعداد مقرر ہے اس کے بغیر حصول طہارت نہیں اب فیصلہ پر پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ روایات پر طائرانہ نگاہ ڈالی جائے کہ وہ ان احتمالین میں سے کس کی تائید کرتی ہیں۔