hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 7166

.

الطحاوي

7166
Al Tahawi
۷۱۶۳: حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ قَالَ : ثَنَا أَسَدٌ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحَاقَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنْ مَیْمُوْنَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا ، مِثْلَہٗ۔فَلَوْ کَانَ أَمْرُ الْمَرْأَۃِ ، لَا یَجُوْزُ فِیْ مَالِہَا بِغَیْرِ اِذْنِ زَوْجِہَا ، لَرَدَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَتَاقَہَا ، وَصَرَفَ الْجَارِیَۃَ اِلَی الَّذِیْ ھُوَ أَفْضَلُ مِنَ الْعَتَاقِ .فَکَیْفَ یَجُوْزُ لِأَحَدٍ تَرْکُ آیَتَیْنِ مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَسُنَنٍ ثَابِتَۃٍ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مُتَّفَقٌ عَلٰی صِحَّۃِ مَجِیْئِہَا اِلٰی حَدِیْثٍ شَاذ ، وَلَا یَثْبُتُ مِثْلُہٗ ؟ .ثُمَّ النَّظَرُ مِنْ بَعْدُ ، یَدُلُّ عَلٰی مَا ذَکَرْنَا .وَذٰلِکَ أَنَّا رَأَیْنَاہُمْ لَا یَخْتَلِفُوْنَ فِی الْمَرْأَۃِ ، فِیْ وَصَایَاہَا مِنْ ثُلُثِ مَالِہَا أَنَّہَا جَائِزَۃٌ مِنْ ثُلُثِہَا ، کَوَصَایَا الرِّجَالِ ، وَلَمْ یَکُنْ لِزَوْجِہَا عَلَیْہَا فِیْ ذٰلِکَ سَبِیْلٌ وَلَا أَمْرٌ ، وَبِذٰلِکَ نَطَقَ الْکِتَابُ الْعَزِیْزُ .قَالَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَکُمْ نِصْفُ مَا تَرَکَ أَزْوَاجُکُمْ اِنْ لَمْ یَکُنْ لَہُنَّ وَلَدٌ فَاِنْ کَانَ لَہُنَّ وَلَدٌ فَلَکُمْ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُوْصِیْنَ بِہَا أَوْ دَیْنٍ۔فَاِذَا کَانَتْ وَصَایَاہَا فِی ثُلُثِ مَالِہَا ، جَائِزَۃً بَعْدَ وَفَاتِہَا ، فَأَفْعَالُہَا فِیْ مَالِہَا فِیْ حَیَاتِہَا ، أَجْوَزُ مِنْ ذٰلِکَ .فَبِہٰذَا نَأْخُذُ وَہُوَ قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدٍ ، رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ أَجْمَعِیْنَ .
٧١٦٣: عبیداللہ بن عبداللہ نے حضرت میمونہ (رض) سے اسی طرح روایت کی ہے۔ اگر عورت کو اپنے مال میں خاوند کی اجازت کے بغیر تصرف کا اختیار نہ ہو تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آزاد کردہ لونڈی کو واپس کراتے اور افضل ترین آزادی کی طرف لوٹاتے۔ اب کیونکر کسی کے لیے درست ہے کہ وہ کتاب اللہ کی ان دو آیات اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے صحیح ثابت شدہ سنن کو ترک کر کے ایک ایسی روایت کو اختیار کرے جو کہ شاذ و غیر ثابت ہے۔ پھر نظر کا تقاضا بھی یہی ہے۔ اس بارے میں کسی کو اختلاف نہیں کہ عورت اپنے مال کے ثلث میں وصیت کرسکتی ہے اور یہ وصیت تیسرا حصہ مال سے جائز ہے نافذ ہے جیسا کہ مردوں کے سلسلہ میں حکم اسی طرح ہے اس میں نہ تو مرد کو روکنے کا حق ہے اور نہ اس کے حکم کی ضرورت ہے۔ قرآن مجید نے یہی بات ارشاد فرمائی ہے۔ ” ولکم نصف ماترک ازواجکم “ (الایۃ آیت ١٢) اور اے خاوندو ! تمہیں اپنی بیویوں کے ترکہ سے نصف ملے گا اگر ان کے ہاں اولاد نہ ہو اگر اولاد ہو تو تمہیں اس مال میں سے چوتھائی ملے گا جو وہ چھوڑ جائیں اور یہ تقسیم ترکہ اس وصیت کے بعد نافذ ہوگا جو وہ وصیت کر جائیں یا قرض کے بعد۔ پس جب عورت کو اپنے ثلث مال کی وصیت جائز ہے اور وفات کے بعد وہ نافذ ہوگی تو زندگی کے دوران وہ اپنے مال میں اس سے زیادہ جائز حق رکھتی ہے ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں اور یہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔