hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 7167

.

الطحاوي

7167
Al Tahawi
۷۱۶۴: حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ سِنَانٍ قَالَ : ثَنَا أَبُو الرَّبِیْعِ الزَّہْرَانِیُّ قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ قَالَ : حَدَّثَنِیْ أَیُّوْبُ عَنْ أَبِیْ قِلَابَۃَ عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ ، أَنَّہٗ کَانَ یَقُوْلُ لِأَصْحَابِہٖ أَلَا أُرِیْکُمْ کَیْفَ کَانَتْ صَلَاۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ وَاِنَّ ذٰلِکَ لَفِیْ غَیْرِ حِیْنِ الصَّلَاۃِ .فَقَامَ ، فَأَمْکَنَ الْقِیَامَ ، ثُمَّ رَکَعَ ، فَأَمْکَنَ الرُّکُوْعَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہٗ وَانْتَصَبَ قَائِمًا ہُنَیْہَۃً ، ثُمَّ سَجَدَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہٗ، فَتَمَکَّنَ فِی الْجُلُوْسِ ، ثُمَّ انْتَظَرَ ہُنَیْہَۃً ، ثُمَّ سَجَدَ۔قَالَ أَبُو قِلَابَۃَ : فَصَلّٰی کَصَلَاۃِ شَیْخِنَا ہٰذَا یَعْنِیْ عَمْرَو بْنَ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ۔قَالَ : فَرَأَیْتُ عَمْرَو بْنَ سَلَمَۃَ یَصْنَعُ شَیْئًا ، لَا أَرَاکُمْ تَصْنَعُوْنَہٗ، اِنَّہٗ کَانَ اِذَا رَفَعَ رَأْسَہٗ مِنَ السَّجْدَۃِ الْأُوْلٰی وَالثَّالِثَۃِ الَّتِیْ لَا یَقْعُدُ فِیْہَا ، اسْتَوَیْ قَاعِدًا ، ثُمَّ قَامَ .
٧١٦٤: ابو قلابہ کہتے ہیں کہ حضرت مالک بن حویریث (رض) اپنے دوستوں کو کہنے لگے کیا میں تم کو نہ دکھلاؤں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کس طرح نما زادا فرماتے تھے۔ اور یہ نماز کے علاوہ اوقات کی بات ہے پس آپ کھڑے ہوتے اور صحیح طور پر کھڑے ہوتے پھر رکوع کرتے تو وہ بھی پورے اطمینان سے کرتے پھر اپنا سر اٹھاتے اور بالکل سیدھے کھڑے ہوجاتے پھر سجدہ کرتے پھر اپنا سر سجدہ سے اٹھاتے اور اطمینان سے بیٹھ جاتے پھر ذرا سا رک کر دوسرا سجدہ کرتے ابو قلابہ کہتے ہیں انھوں نے ہمارے شیخ حضرت عمرو بن سلمہ (رض) جیسی نماز ادا کی۔ پھر ابو قلابہ کہنے لگے میں نے عمرو بن سلمہ کو ایک چیز کرتے دیکھا اور میں نے تمہیں اس کو کرتے نہیں دیکھا کہ وہ جب سجدہ اولیٰ سے سر اٹھاتے اور تیسرے سجدہ (رکعت) سے سر اٹھاتے جن میں قعدہ نہیں بیٹھا جاتا تو سیدھے بیٹھتے پھر کھڑے ہوتے۔
خلاصہ الزام :
دوسرے سجدہ کے بعد سیدھا اٹھنے سے پہلے جلسہ استراحت ہے یا نہیں۔
: ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ جلسہ استراحت ہر دوسرے سجدہ کے بعد ہے جن کے بعد قیام ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف یہ ہے دوسری یا تیسری رکعت کے سجدہ کرنے کے بعد پنجوں کی قوت سے اٹھے جلسہ استراحت نہ کرے ائمہ احناف نے اسی قول کو اختیار کیا ہے۔