۷۱۷ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَاصِمٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ یَزِیْدَ، قَالَ : ثَنَا حُصَیْنٌ الْحِمْیَرِیُّ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ أَبُوْ سَعْدِ ڑ الْخَیْرُ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ .وَزَادَ (مَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْیُوْتِرْ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لَا، فَلَا حَرَجَ) .فَدَلَّ ذٰلِکَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَمَرَ بِالْوِتْرِ فِی الْآثَارِ الْأُوَلِ، اسْتِحْبَابًا مِنْہُ لِلْوِتْرِ، لَا أَنَّ ذٰلِکَ مِنْ طَرِیْقِ الْفَرْضِ الَّذِیْ لَا یُجْزِئُ إِلَّا ہُوَ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا قَدْ بَیَّنَ ذٰلِکَ أَیْضًا .
٧١٧: ابو سعد الخیر نے ابوہریرہ (رض) سے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح روایت نقل کی ہے البتہ یہ الفاظ زائد ہیں : من استحمر فلیوتر من فعل فقد احسن ومن لا فلاحرج۔ جو استنجاء کرے تو وہ طاق پتھر استعمال میں لائے جس نے اس طرح کیا اس نے خوب کیا اور جس نے نہ کیا تو کوئی حرج نہیں ہے۔ پس اس سے یہ دلالت میسر آئی کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طاق کا حکم بطور استحباب دیا بطور فرض نہیں کہ اس کے بغیر حصول طہارت ہی نہ ہو اور حضرت ابن مسعود (رض) کی روایت سے ہماری تائید ہوتی ہے ‘ ملاحظہ کریں۔
تخریج : مسند احمد ٢؍٢٧١۔